تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 145
تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۴ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات ہوئے نشان کے شاہد ناطق بن گئے جو بعد میں حیرت انگیز رنگ میں ظاہر ہوا اور قیامت تک پورا ہوتا رہے گا۔آسمانی باپ نے کس طرح آپ کی کفالت فرمائی۔اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضور ایک نظم میں فرماتے ہیں۔ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یاد غمگسار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں جس کو تو نے کر دیا ہے قوم و دیں کا انتظار کثرت مکالمات و مخاطبات کی ابتداء حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کا انتقال فرمانا ہی تھا کہ آپ پر بڑے زور و شور سے مکالمات و مخاطبات کا نزول شروع ہو گیا۔آپ خود فرماتے ہیں: ایک طرف ان کا (یعنی حضرت والد ماجد کا۔ناقل ) دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور و شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالٰی کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔سو یہ اسی کی عنایت ہے "۔کثرت مکالمات الیہ کے اس ابتدائی زمانہ میں آپ پر کئی عظیم الشان اخبار غیبیہ کا انکشاف ہوا۔انگریزی الہامات کی ابتداء ہوئی اور مختلف مواقع پر آپ کی تائید میں کئی چمکتے ہوئے آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔۲۵ مرزا غلام قادر صاحب کی جانشینی اور دور ابتلاء اب آپ اگر چہ براہ راست اللہ تعالی کے آغوش شفقت و محبت میں آچکے تھے اور وہی ہر لحظہ آپ کا حقیقی سرپرست مربی مونس و غمخوار اور معین و مددگار تھا لیکن اس کی حکیمانہ مصلحتوں اور پر حکمت تقدیروں کے مطابق ابھی آپ کے لئے اقتصادی لحاظ سے ایک شدید دور ابتلاء میں سے گذرنا ضروری تھا۔اس لئے آپ کے والد صاحب کے انتقال کے بعد جو نہی آپ کے بڑے بھائی (مرزا غلام قادر صاحب مرحوم) جانشین ہوئے آپ کی زندگی میں امتحان اور آزمائش کی ایک دوسری منزل شروع ہوئی جو ان کے سات سالہ زمانہ جانشینی (۱۸۷۶ء سے ۱۸۸۳ء) تک جاری رہی۔