تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 144 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 144

تاریخ احمدیت جلدا والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات جو آپ کے خلوص و ایمان حسن خاتمہ اور دربار خالق میں قبولیت کی دائمی یادگار ہے۔اللهُمَّ اجْعَلْ مَثْوَهُ فِي الْجَنَّةِ وَادْخِلُهُ فِي عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ چونکہ خاندانی معاش کے اکثر و جوہ آپ کے والد کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی کفالت والد ماجد ہی سے وابستہ تھے اور انہیں حکومت کی طرف سے پیشن وغیرہ ملتی تھی جو ان کی زندگی سے مشروط تھی۔اس لئے طبعی طور پر آپ کو اپنے والد کے انتقال کی آسمانی خبر پر سخت صدمہ ہوا۔اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے۔یہ خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں آپ کے دل میں گذرا تھا کہ اسی وقت غنودگی طاری ہوئی اور اللہ تعالی نے آپ کو ایک دوسرے الہام "الیس الله بکاف عبدہ " کے ذریعہ سے بشارت دی کہ آپ کو یوں مشوش ہونے کی ضرورت نہیں۔سایہ پدری سے محرومی کے بعد زمین و آسمان کا خدا آپ کو خود اپنی کفالت میں لے لے گا۔حضور علیہ الصلوۃ و السلام اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء ہمیں پیش آئے گا۔تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا اليس الله بکاف عبدہ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے؟ اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔پس مجھے اس خدائے عزو جل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز متکفل نہیں ہو گا۔میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے۔یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو " - 1 یہ الهام چونکہ ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل تھا جو آئندہ ایک زبر دست نشان بن کر ظاہر ہونے والی تھی۔اس لئے آپ نے اسی وقت لالہ ملاوائل صاحب کو تفصیلات سے آگاہ کر دیا اور امرتسر میں حکیم محمد شریف صاحب کلانوری کی طرف بھیجا کہ وہ ان کی معرفت یہ الفاظ کسی نگینہ میں کندہ کرالا ئیں۔چنانچہ لالہ ملاوائل صاحب امرت سر گئے اور مبلغ پانچ روپیہ میں انگشتری تیار کرو الائے اور اسی طرح لالہ ملاوامل صاحب اور حکیم مولوی محمد شریف صاحب کلانوری دونوں اس چمکتے