تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 143 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 143

تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۲ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات مولوی صاحب نے کہا " آپ نماز نہیں پڑھتے خدا تعالٰی آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا اس فقرہ پر انہیں جوش آگیا اور فرمایا کہ ” تم کو کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے دوزخ میں ڈالے گا یا کہاں؟ میں اللہ تعالی پر ایسا بد ظن نہیں میری امید وسیع ہے۔اس نے فرمایا کہ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تم مایوس ہو گئے۔میں نہیں۔میں خدا تعالیٰ کے رحم و کرم پر بھروسہ کرتا ہوں یہ تمہاری بد اعتقادی ہے تم کو خداتعالی پر ایمان نہیں"۔خدا تعالیٰ کا ان سے غیر معمولی سلوک اسی حسن اعتقاد ہی کی بدولت اللہ تعالٰی بھی ان کے ساتھ بعض اوقات غیر معمولی سلوک کرتا اور خصوصی احسانات سے نوازتا تھا۔ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ آپ ایک دفعہ سخت بیمار ہوئے اور بیماری بہت طوالت پکڑ گئی۔اسی اثناء میں ان کے ہاں ایک ملاں آیا اور اس نے سمجھا کہ مرض کا بہت زور ہے تو وہ باہر نکل کر کواڑ کے پیچھے اس انتظار میں کھڑا ہو گیا کہ کب دم نکلتا ہے اور عورتیں رونا شروع کرتی ہیں۔وہ دیر تک اسی حالت میں کھڑا تھا کہ اچانک آپ کی نظر اس پر پڑ گئی۔فرمانے لگے ملاں چلے جاؤ ابھی تو میرے میں سال باقی ہیں تو کب تک انتظار کرے گا چنانچہ سچ سچ آپ اس کے بعد ایک عرصہ تک زندہ رہے۔اسی طرح آپ کے برادر زادہ مرزا امام الدین نے ( جو آخر وقت تک اس خاندان کا جانی دشمن رہا) ایک دفعہ آپ کے خلاف قتل کی ناپاک سازش کی جسے خدا تعالٰی نے خاص تصرف سے ناکام بنا دیا۔سوچیت سنگھ کا (جسے اس ملعون کام کی تکمیل کے لئے آلہ کار بنایا گیا تھا) بیان ہے کہ بڑے مرزا صاحب بالا خانے میں رہتے تھے۔میں کچے دیوان خانہ کی دیوار سے ان تک پہنچنے کے لئے کئی دفعہ اوپر چڑھا اور ہر مرتبہ ان کے پاس مجھے دو محافظ نظر آئے۔یہ دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گیا اور بالاخر میں نے اس ارادہ بد سے توبہ کرلی۔دراصل خدا تعالی کی قدرت نمائی کا کرشمہ تھا کہ اسے ہر دفعہ دو پہرہ دار دکھائی دیے۔درنہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کے پاس اس وقت کوئی محافظ موجود نہیں تھا آپ کی طبیعت شگفتہ تھی۔شجاعت، راست گوئی ، جرات استقلال د وفاداری عہد اور دوستی میں سلف صالحین کا پاک نمونہ تھے۔شعر و شاعری میں خاص دسترس تھی اور علمی تشنگی بجھانے کے لئے انہوں نے ایک وسیع لائبریری بھی قائم کر رکھی تھی جس میں قیمتی کتابوں کا ایک نایاب ذخیرہ تھا اور بعض کتابیں اپنے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں۔آپ کی زندگی کا شاندار کارنامہ آپ کی زندگی کا آخری اور شاندار کارنامہ مسجد اقصی کی تعمیر ہے جہاں آپ اس وقت ابدی نیند سو رہے ہیں اور