تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 140
تاریخ احمدیت جلدا والد ماجد کار صال اور کثرت مکالمات ہوئے جواب دیا ” میں ان دیہات کو علاج میں لینا اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے موجب ہتک سمجھتا ہوں"۔ایک مرتبہ مہاراجہ شیر سنگھ کاہنوراں کے منصب میں شکار کے لئے گئے۔آپ بھی ان کے ہم رکاب تھے۔مہاراجہ کے بازدار کو جو قوم کا جولاہا تھا کام ہو گیا۔آپ نے اس کو چند پیسوں کا ایک نسخہ لکھ دیا اور وہ اس کے استعمال سے فورا اچھا ہو گیا۔اس کے بعد خود راجہ صاحب اسی عارضہ میں مبتلا ہو گئے تو آپ نے تمہیں چالیس روپے کا ایک قیمتی نسخہ ان کے لئے تجویز کیا۔مہاراجہ نے کہا کہ اس تفاوت کی کیا وجہ ہے؟ بے ساختہ جواب دیا " شیر سنگھ اور جولاہا ایک نہیں ہو سکتے "۔اس جرات مندی پر مہاراجہ شیر سنگھ بہت ہی خوش ہوئے اور آپ کی عزت افزائی کے لئے اس زمانہ کے دستور کے موافق کڑوں کی ایک جوڑی پیش کی۔بے باک حق گوئی یہ تو سکھ فرمانرواؤں کے زمانہ کا تذکرہ ہے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے انگریزی حکومت کے ابتدائی دور میں بھی (جو ہندوستانیوں کے لئے بڑا صبر آزما دور تھا اور بڑے بڑے رؤسا ادنی انگریز سے بھی سمے رہتے تھے) بے باک حق گوئی اور وضع داری میں سرمو کوئی فرق نہیں آنے دیا۔انہیں اپنی زندگی میں بڑے بڑے انگریز حکام سے ملاقات کا موقعہ ملا۔اور وہ ان سے نہایت بے تکلفی اور آزادی سے گفتگو فرماتے تھے اور اگر کسی موقعہ پر وہ اپنی خودداری اور شاہانہ عظمت کو داغ دار ہو تا محسوس کرتے تھے تو عواقب کی پروا کئے بغیر کھری کھری سنا دیتے تھے۔tt ایک دفعہ مسٹر میکانکی ڈپٹی کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے۔راستے میں انہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ گاؤں چل کر جواب دوں گا۔جب قادیان پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ ”یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہوئے ہیں۔مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں۔ان کی خود داری اور خاندانی وجاہت کا اس سے عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر سے ملاقات کے لئے گئے۔باتوں باتوں میں اس نے پوچھا کہ قادیان سے سری گویند پور کتنی دور ہے ؟ انہیں یہ سوال نشتر معلوم ہوا۔اور وہ نور ابولے میں ہرکارہ نہیں اور سلام کہہ کر رخصت ہونا چاہا۔رابرٹ نے کہا مرزا صاحب آپ تو ناراض ہو گئے۔انہوں نے جواب : یا کہ "ہم آپ سے اپنی باتیں کرنے آئے ہیں اور آپ ادھر ادھر کی باتیں پوچھتے ہیں۔جو آپ نے مجھے سے پوچھا وہ میرا کام نہیں ہے "۔نتیجہ یہ ہوا کہ کمشنر ان کی منتیں کرنے لگا اور کہنے لگا کہ آپ ناراض نہ