تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 138 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 138

تاریخ احمدیت جلد ۱۳۷ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات باب نہم والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات و مخاطبات کی ابتداء (۱۸۷۶ تا ۱۸۷۷) والد ماجد کے انتقال کی قبل از وقت خبر حضرت بانی سلسلہ علیہ الصلوۃ والسلام اوائل جون ۱۸۷۶ء میں چیف کورٹ میں دائر ایک مقدمہ کے سلسلہ میں لاہور تشریف فرما تھے کہ آپ کو عالم رویا میں خبر دی گئی کہ آپ کے والد ماجد سفر آخرت پر روانہ ہونے والے ہیں۔یہ اطلاع پاتے ہی آپ لاہور سے قادیان پہنچے اور دیکھا کہ اگر چہ وہ زمیر کے عارضہ میں جتلا ہیں لیکن مرض کی شدت کم ہو چکی ہے۔دوسرے دن (۲- جون ۱۸۷۶ء) جبکہ آپ چوبارہ پر استراحت فرمارہے تھے اور ایک خادم جمال کشمیری آپ کے پاؤں مبارک دربار ہا تھا آپ پر الہام نازل ہوا " وَ السَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ " کہ آسمان کی قسم ہے اور رات کے حادثہ کی قسم ہے۔اور اس کی تقسیم یہ ہوئی کہ حضور کے والد ماجد آج غروب آفتاب کے وقت اس جہان سے رحلت کر جائیں گے یہ دراصل خالق کائنات کی زبان سے تعزیت تھی جو رونما ہونے والے حادثہ سے قبل ہی تسکین قلب کی خاطر آپ سے کی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود تحریر فرماتے ہیں: " مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔تب میں جلدی سے قادیان میں پہنچا اور ان کو مرض زیر میں مبتلا پایا لیکن یہ امید ہر گز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔دوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم آرام کر لو۔کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور