تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 132 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 132

تاریخ احمدیت جلدا (۳۱ قلمی جہاد کا آغاز کے اوائل میں ہوئی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات کا آغاز غالبا اگلے سال ۱۸۷۷ء کے بعد ہوا۔جبکہ حضرت میر صاحب کے اہل و عیال قادیان میں رہائش پذیر ہوئے۔چنانچہ آپ کے حرم کا بیان ہے کہ اس کے بعد جب دوسری دفعہ قادیان آئی تو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ فوت ہو چکے تھے اور ان کی برسی کا دن تھا جو قدیم رسوم کے مطابق منائی جارہی تھی۔چنانچہ ہمارے گھر بھی بہت سا کھانا وغیرہ آیا تھا۔اس دفعہ مرزا غلام قادر صاحب نے میر صاحب سے کہا کہ آپ تلہ (قادیان سے قریب ایک گاؤں) میں رہتے ہیں جہاں آپ کو تکلیف ہوتی ہوگی اور وہ گاؤں بھی ہر معاش لوگوں کا گاؤں ہے۔بہتر ہے کہ آپ یہاں ہمارے مکان میں آجا ئیں میں گورداسپور رہتا ہوں اور غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) بھی گھر میں بہت کم آتا ہے اس لئے آپ کو پردہ وغیرہ کی تکلیف نہیں ہو گی۔چنانچہ میر صاحب مان گئے اور ہم یہاں آکر رہنے لگے غالبا اسی دوران میں حضرت میر صاحب ہمیں ان کی مرزا غلام قادر مرحوم کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلی ملاقات ہوئی تھی حضرت میر ناصر نواب صاحب کے بیان کے مطابق یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت اقدس " براہین احمدیہ " لکھ رہے تھے حضرت میر صاحب کے زیادہ مراسم گو آپ کے بڑے بھائی سے تھے لیکن ابتدائی ملاقات ہی سے آپ کے دل پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقوی شعاری ، عبادت اور ریاضت اور گوشہ گزینی نقش ہو گئی جس کا کبھی کبھی گھر میں آکر اظہار کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ " مرزا غلام قادر کا چھوٹا بھائی بہت نیک اور متقی ہے چند ماہ بعد ان کی تبدیلی قادیان سے لاہور میں ہو گئی تو وہ چند روز کے لئے اپنے اہل خانہ کو حضور کے مشورہ کے احترام میں بے تامل آپ ہی کے ہاں چھوڑ گئے اور جب وہاں مکان کا بندوبست ہو گیا تو پھر انہیں لے گئے۔ان کا کہتا ہے کہ میں نے اپنے گھر والوں سے سنا کہ جب تک میرے گھر کے لوگ مرزا صاحب کے گھر میں رہے مرزا صاحب کبھی گھر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ باہر کے مکان میں رہے۔اس قدر ان کو میری عزت کا خیال تھا۔وہ بھی عجب وقت تھا حضرت صاحب گوشہ نشین تھے ، عبادت اور تصنیف میں مشغول رہتے تھے۔لالہ شرعیت اور ملاوائل کبھی کبھی حضرت صاحب کے پاس آیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کے کشف اور الہام سنا کرتے تھے بلکہ کئی کشوف اور الہاموں کے پورے ہونے کے گواہ بھی ہیں۔اس وقت یہ بچے اور نرم دل تھے "۔حضرت میر صاحب ابتداء قادیان میں رہائش پذیر ہوئے تو انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اکثر نماز پڑھنے کا موقعہ ملتا اور وہ نماز کے بعد حضور سے علمی اور فقہی مسائل پر بھی مذاکرہ کیا کرتے تھے۔چنانچہ پنڈت دیوی رام ساکن دو دو چک تحصیل شکر گڑھ) کی چشم دید شہادت ہے