تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 130
تاریخ احمدیت۔جلدا ١٣٩ قلمی جہاد کا آغاز میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کر نا گیا یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا۔خدا تعالٰی نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا۔اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف کا شفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول الله مع حسنین و علی جی علی و فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہو ئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستان طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا۔اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہو گئی۔یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی۔لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔غرض اس حد تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع و اقسام کے مکاشفات تھے۔" ایک دفعہ فرمایا جب میں تین ماہ کے قریب پہنچا تو ایک شخص قد آور جسم ، رنگ سرخ میرے سامنے یہ الفاظ کہتا تھا۔قرت- قرت- قرت نفس کشی اور ریاضت شاقہ کی اس کٹھن منزل کے طے کرنے سے جہاں آپ کو آسمانی عجائبات دیکھنے کا موقعہ ملا 21 - وہاں پہلی مرتبہ اپنے نفس کی حیرت انگیز قوت برداشت کا تجربہ ہوا۔نیز اس نتیجہ پر پہنچے کہ آرام طلبی کی زندگی کو ترک کئے بغیر روحانیت کے مدارج کا حصول ممکن نہیں ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فریبی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے