تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 127
تاریخ احمدیت جلدا ۱۲۶ قلمی جہاد کا آغاز قادیان میں مسجد اقصیٰ ایسی عظیم الشان جامع مسجد کی بنیاد خود آپ کے والد ماجد کے ہاتھوں رکھوادی۔عمر بھر کی ناکامیوں کی وجہ سے چونکہ آپ کے والد ماجد کو مسلسل اور پیم صدمات سے دوچار ہونا پڑا تھا اور دل زخم رسیدہ ہو چکا تھا۔اس لئے زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے مافات کی تلافی کے لئے قادیان میں ایک جامع مسجد تعمیر کرنے کا قطعی فیصلہ کر لیا۔اس سے پہلے انہوں نے اس مسجد کے حصول کی از حد کوشش کی جسے رام گڑھیہ سکھوں نے بالجر قبضہ کر کے دھرم سالہ بنا دیا تھا۔لیکن جب خود مقامی مسلمانوں کی مخالفانہ شہادتوں نے اس کی بازیافتگی کا رستہ مسدود کر دیا تو آپ نے اس کے نزدیک ہی قصبہ کے وسط میں ایک اور جگہ انتخاب کی جو اس وقت سکھ کارداروں کی حویلی تھی۔لیکن اس حویلی کی نیلامی کا مرحلہ آیا تو اہل قریہ نے ایک بار پھر آپ کو زمین سے محروم کرنے کی کوشش کی اور مقابل پر قیمت میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔لیکن آپ نے خدا تعالی کے حضور یہ پختہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر باقی جائیداد بھی فروخت کرنا پڑے تو میں یہ زمین لے کر مسجد ضرور بناؤں گا۔اس لئے آپ نے مالیات کے سبھی پہلو نظر انداز کر کے چند روپوں کی مالیت کا قطعہ ۷۰۰ روپے کی قیمت پر خرید لیا۔اور اخلاص و ندامت بھرے دل کے ساتھ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔گاؤں میں چونکہ پہلے کئی مساجد موجود تھیں۔اور یہ مسجد ان سب سے بڑی بنائی جارہی تھی اس لئے اس وقت ایک شخص نے کہا کہ اتنی بڑی مسجد کی کیا ضرورت تھی۔کس نے نماز پڑھنی ہے اس مسجد میں چنگار ڑہی رہا کریں گے اور یہ بات گاؤں کی مختصر ی مسلم آبادی کے لحاظ سے ہر شخص کو معقول نظر آتی تھی۔لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ کام خدائی تحریک اور اس کے تصرف سے ہو رہا ہے اور ایک زمانہ آئے گا جب اسے دنیا بھر میں ایک ممتاز شان حاصل ہوگی۔مسجد اقصیٰ کی تعمیر یہ جامع مسجد جواب مسجد اقصی سے موسوم ہے تخمینا ۱۸۷ء کے آخری دنوں سے تعمیر ہونی شروع ہوئی اور جون ۱۸۷۶ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی اور اس کے پہلے خادم اور امام میاں جان محمد صاحب مرحوم مقرر ہوئے۔اس ابتدائی مسجد کی پرانی مسقف عمارت اور اس کا صحن اور کنواں اپنی اپنی جگہ پر بدستور موجود ہیں۔البتہ ابتدائی صحن مختصر اور پختہ پرانی قسم کی چھوٹی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔شمالی دروازہ کے اند ر کنوئیں کا منہ پہلے اوپر مسجد کے صحن کے فرش کے برابر تھا اور جہاں محسن کا فرش ختم ہو تا تھا وہاں مشرقی کنارہ پر اینٹوں کی ایک منڈیر تھی جس پر نمازی وضو کیا کرتے تھے اور نالی سے مستعمل پانی نیچے بازار کی گلی میں جاکر تا تھا۔چنانچہ پنڈت دیوی رام ساکن دو رو چک تحصیل شکر گڑھ کی (جو ۲۱- جنوری ۱۸۷۵ء کو نائب مدرس ہو کر قادیان گئے اور چار سال تک انہیں حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملا) معینی شہادت ہے کہ " ( آپ کے)