تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 126 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 126

تاریخ احمدیت جلدا ۱۲۵ قلمی جہاد کا آغاز عدالت میں پہنچے تو اس کی حالت ایسی بدلی ہوئی تھی کہ گویا وہ پہلا انگریز نہیں تھا۔اس نے زمینداروں کو سخت ڈانٹ پلائی اور آپ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے سارا خرچہ بھی ان پر ڈال دیا۔آسمانی بادشاہت درویشوں کی جماعت اور ۱۸۷۴ء میں آپ کو خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دکھائی دیا جو ایک اونچے اقتصادی کشائش عطا ہونے کی بشارت چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا۔اس کے ہاتھ میں DIA ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا۔وہ نان آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اس نے کہا " یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے کے لئے ہے " اس نظارہ میں آپ کو رزق کی کشائش کے علاوہ درویشوں کی ایک جماعت عطا کئے جانے کی بشارت دی گئی۔نیز آسمانی بادشاہت عطا ہونے کی خبر بھی دی گئی تھی۔کیونکہ انجیل کے محاورہ میں روٹی سے مراد آسمانی بادشاہت کا قیام ہے۔یاد رہے یہ اس زمانہ کی بشارت ہے جب آپ قاریان ایسے کو ردیہ میں اقتصادی مشکلات سے دو چار گوشہ نشینی اور خلوت کی زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ کے حلقہ بیعت سے کوئی ایک شخص بھی وابستہ نہیں تھا۔اور عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ بشارت ٹھیک اس زمانہ میں دی گئی جبکہ دانیال نبی کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود کی آمد مقدر تھی (یعنی ۱۲۹۰ھ مطابق ۱۸۷۳-۱۸۷۴ء میں) چنانچہ مسٹر رو تھر فورڈ انجیل کی پیشگوئیوں کی روشنی میں ۱۸۷۴ء کی اہمیت واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "The facts hereinbefore considered show that the lord was present from 1874 "The in this that he was doing a special work concerning his church, to forward, restoring to them the great fundamental truths that had been covered and wit by the ecelesiastical part of the Devil's Organization, and preparing to hid gather the saints” ☎ یعنی حقائق بتاتے ہیں کہ ۱۸۷۴ء کے بعد مسیح اس دنیا میں موجود ہے اور اپنے کلیسیا کے متعلق ایک خاص کام سرانجام دے رہا ہے۔اور وہ بنیادی صداقتیں جنہیں طاغوتی نظام نے ڈھانپ رکھا ہے اور دنیا کی نظروں میں روپوش کر رکھا ہے۔وہ انہیں دوبارہ آشکار کر کے نیک اور پار سالوگوں کو اپنے گرد جمع کر رہا تھا۔مسجد اقصیٰ کی تعمیر اب چونکہ وہ زمانہ تیزی سے آرہا تھا جس میں آپ کے گرد پار ساد رویش طبع لوگ پروانوں کی طرح جمع ہونے والے تھے اس لئے اللہ تعالٰی نے پہلے یہ خوشخبری دی اور پھر اگلے سال (۱۸۷۵ء) میں