تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 110 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 110

تاریخ احمدیت جلدا 1۔9 قادیان میں دینی مصروفیات گذشتہ ناکامیوں پر مخلوط تاثرات و جذبات کا نتیجہ تھا کہ عمر کے آخری دور میں آپ دنیا داری کے ان جھمیلوں سے سخت دل برداشتہ ہو کر سابقہ بے التفاتی کی تلافی کی طرف متوجہ ہو گئے۔جوں جوں عمر گزرتی گئی دنیا داری کے خلاف نفرت و حقارت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اپنی سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں: اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بد ستوران ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے مدیر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہو تا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتا بیں سنایا بھی کرتا تھا۔اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا جس کا انجام آخر نا کامی تھا۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہو تا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چه حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا۔اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔عمر بگذشت و نماندست جزایا می چند به که در یاد کے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے: از در تو اے کی ہر بے کے نیست امیدم اور کبھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔روم نا امید باب دیده عشاق و خاکپائے کے مرا دلے ست کہ درخوں تید بجائے کسے A