تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 102
تاریخ احمدیت جلدا N قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام حضرت چراغ بی بی صاحبہ رحمہا اللہ کا انتقال حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے جب حضور کو استعفیٰ دے کر واپس چلے آنے کا پیغام بھجوایا تو حضور کی والدہ ماجدہ سخت بیمار تھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیغام سنتے ہو انور آسیا لکوٹ سے روانہ ہو گئے۔امرت سر پہنچے تو قادیان کے لئے تانگہ کا انتظام کیا۔اسی اثناء میں قادیان سے ایک اور آدمی بھی آپ کو لینے کے لئے امرت سر پہنچ گیا۔اس آدمی نے یکہ بان سے کہا کہ یکہ جلدی چلاؤ کیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہو گئی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ سنتے ہی یقین ہو گیا کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔چنانچہ قادیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کی مشفق و مهربان اور جان سے پیاری والدہ آپ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو چکی ہیں D حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے "حیات النبی" میں یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ " میران بخش حجام کو آپ کے پاس بھیجا گیا اور اسے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ یک دم حضرت والدہ مکرمہ کی وفات کی خبر حضرت مسیح موعود کو نہ سنائے چنانچہ جس وقت بٹالہ سے نکلے تو حضور کو حضرت والدہ صاحبہ کی علالت کی خبردی یکہ پر سوار ہو کر جب قادیان کی طرف آئے تو اس نے یکہ والے کو کہا کہ بہت جلد لے چلو۔حضرت نے پوچھا کہ اس قدر جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اس نے کہا کہ ان کی طبیعت بہت ناساز تھی۔پھر تھوڑی دور چل کر اس نے یکہ والے کو اور تاکید کی کہ بہت ہی جلدی لے چلو۔تب پھر پوچھا۔اس نے پھر کہا کہ ہاں طبیعت بہت ہی ناساز تھی کچھ نزع کی سی حالت تھی۔خدا جانے ہمارے جانے تک زندہ رہیں یا فوت ہو جائیں۔پھر حضرت خاموش ہو گئے۔آخر اس نے پھر یکہ والا کو سخت تاکید شروع کی تو حضرت نے کہا کہ تم اصل واقعہ کیوں بیان نہیں کر دیتے کیا معاملہ ہے۔تب اس نے کہا کہ اصل میں مائی صاحبہ فوت ہو گئی تھیں اس خیال سے کہ آپ کو صدمہ نہ ہو یک دم خبر نہیں دی۔حضرت نے سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا اور یہ خدا کی رضاء میں محو اور مت قلب اس واقعہ پر ہر چند کہ وہ ایک حادثہ عظیم تھا سکون اور تسلی سے بھرا رہا "۔حضرت کی والدہ ماجدہ کے اخلاق و شمائل حضرت چراغ بی بی صاحبہ " ایمہ ضلع - ہوشیار پور کے ایک معزز مغل خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔قناعت ، شجاعت، عفت مروت، وسعت حوصلہ استغناء ، فیاضی اور مہمان نوازی آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔شہر کے مفلوک الحال اور پسماندہ طبقہ کی ضروریات کے مہیا کرنے میں انہیں خاص قلبی و روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔غرباء کے مردوں کو کفن ہمیشہ ان کے ہاں سے ملتا