تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 101
تاریخ احمدیت جلدا قیام سیالکوٹ اور تاریخ اسلام بھیجا گیا تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پل پر پہنچا۔مرزا صاحب اور بلا سنگھ ایک ہی وقت میں دوڑے اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے۔جب پل پر پہنچے تو ثابت ہوا کہ حضرت مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا"۔دد ملازمت سے استعفیٰ سیالکوٹ کا زمانہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک روحانی ٹریننگ کا زمانہ تھا۔جس میں آپ کے ہاتھوں پادریوں سے معرکہ آرائی کا آغاز ہونا مقدر تھا۔اس لئے جب اللہ تعالٰی کے فیصلہ اور تقدیر کے مطابق یہ چار سالہ دور ختم ہونے کو آیا تو ۱۸۶۷ ء میں آپ کے والد بزرگوار کے دل میں جدائی کا زخم جو آہستہ آہستہ مندمل ہو گیا تھا کا ایک تازہ ہو گیا اور انہوں نے ایک آدمی بھیجوا کر اپنے چہیتے فرزند کو ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس آجانے کی فوری ہدایت دی۔یہاں کیا دیر تھی چار سال کی طویل مدت میں ایک ایک گھڑی اسی انتظار میں گذر رہی تھی کہ واپسی کا فرمان آئے تو اس دور امیری کا خاتمہ ہو۔چنانچہ آپ یہ ارشاد ملتے ہی ملازمت سے مستعفی ہو کر سیالکوٹ سے قادیان کو چل دیئے اور اپنے والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تحریر فرماتے ہیں کہ : آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے مطابق تھا میں نے استعفی دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔۔۔بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے من بهر جمعتے نالاں شدم جفت خوشحالاں و بد حالمان شدم ہر کے از ظن خود شد یار من وز درون من نجت اسرار من 1 -