تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 100 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 100

تاریخ احمدیت جلدا 99 قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام بھی آجایا کرتے تھے اس عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل الدین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا آپ بلا کر فرماتے۔میاں فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں اور نہ میرے وقت کو برباد کیا کریں۔میں کچھ نہیں کر سکتا۔میں حاکم نہیں ہوں۔جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے کچھری میں ہی کر آتا ہوں فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقربین میں شمار کئے گئے۔اس کے بعد وہ مسجد جامع کے سامنے ایک بیٹھک میں بمعہ منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے۔وہ (یعنی منصب علی - خاکسار (مؤلف) وثیقہ نویس کے عہدہ پر ممتاز تھے۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل الدین نام بوڑھے دکاندار تھے جو رات کو بھی دکان پر ہی رہا کرتے تھے ان کے اکثر احباب شام کے بعد آتے سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہ گاہ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے آجایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر کی اکثر بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے۔مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مرتاض شخص تھے۔مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے اور لالہ بھیم سین صاحب وکیل کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو۔چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہو تا تو مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو اور ہو تو فرمایا خود سعی اور محنت کرنی چاہئے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا مولوی محبوب عالم صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔دینیات میں مرزا صاحب کی سبقت اور پیش روی تو عیاں ہے مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچھری برخواست ہونے کے بعد جب اہل کار گھروں کو واپس ہونے لگے تو اتفاقاً تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا۔ہر ایک نے دعوی کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں۔آخر ایک شخص بلا سنگھ نام نے کہا کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑو تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے۔آخر شیخ اللہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے اور یہ امر قرار پایا کہ یہاں سے شروع کر کے اس پل تک جو کچھری کی سڑک اور شہر میں حد فاصل ہے ننگے پاؤں دوڑو - جوتیاں ایک آدمی نے اٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اس پل پر