تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 96 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 96

تاریخ احمدیت جلدا ۹۵ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام بڑے قریب سے مطالعہ کیا اور دیکھا۔وہ سرسید تحریک کے دلدادہ تھے مگر ان کے دل پر حضور کی بزرگی تقدس اور تقویٰ کا غیر معمولی اثر تھا اور وہ حضرت اقدس کی بے حد عزت کیا کرتے تھے۔ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سیالکوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ادنی تامل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہو جاتا تھا کہ حضرت اپنے ہر قول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں؟ M-A- tt ایک دفعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سیالکوٹ میں ان سے ملے تو انہوں نے چشم پر آب ہو کر فرمایا: افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی۔بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالی کے خاص بندے ہوتے ہیں اور دنیا میں کبھی کبھی آتے ہیں"۔مولوی سید میر حسن صاحب سیالکوٹی کے قلم سے حضور کے زمانہ سیالکوٹ کے مفصل حالات مولانا سید میر حسن صاحب مرحوم نے حضور کے قیام سیالکوٹ کے متعلق دو مفصل بیانات بھی لکھے جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سیالکوٹ پر تفصیلی روشنی پڑتی ہے اور جنہیں کوئی مورخ نظر انداز نہیں کر سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ اس زمانہ کی تاریخ میں یہ قیمتی معلومات بنیادی لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔پہلا بیان (حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مرحوم سیالکوٹ میں اور ان کا زمانہ قیام بتقریب ملازمت" کے عنوان سے) حضرت مرزا صاحب ۱۸۶۴ء میں بتقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔چونکہ آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول و لغو سے مجتنب اور محترز تھے اس واسطے عام لوگوں کی ملاقات جو اکثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی تھی آپ پسند نہیں فرماتے تھے لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا مٹھن لال صاحب بٹانہ میں اکسٹرا اسٹنٹ تھے ان کے بڑے رفیق تھے اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے اس لئے سیالکوٹ میں بھی ان سے اتحاد کامل رہا۔پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے تو لالہ صاحب ہی تھے۔اور