تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 95 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 95

تاریخ احمدیت۔جلدا ۹۴ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام استعفی دے کر واپس قادیان آنے لگے تو اس نے آپ کی مشایعت کے اعزاز میں تعطیل عام کر دی تھی کہ ایساپاکباز شخص ان کے عملے سے مستعفی ہو کر جارہا ہے۔سرکاری افسروں اور ملازموں کے علاوہ سیالکوٹ کا ہر وہ شخص جسے آپ سے کبھی ملنے کا اتفاق ہوا آپ کی صالح اور درویشانہ طبیعت سے متاثر تھا۔جن لوگوں کے مکانوں میں آپ نے ان دنوں قیام فرمایا وہ آپ کو ولی اللہ قرار دیتے تھے سیالکوٹ کے علمی طبقہ میں تو آپ کو علم و فضل کا ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔اس زمانہ کی چند شہادتیں درج ذیل ہیں۔پہلی شہادت سیالکوٹ میں ایک صاحب حکیم مظہر حسین صاحب تھے جو اگر چہ حضرت مسیح موعود کے دعوئی ماموریت پر دشمنان احمدیت کی صف اول میں چلے گئے تاہم حضور کے زمانہ سیالکوٹ کی پاکیزہ یا دوہ مخالفت کے ہجوم میں بھی فراموش نہیں کر سکے چنانچہ لکھتے ہیں: ثقہ صورت عالی حوصلہ اور بلند خیالات کا انسان اپنی علو ہمتی کے مقابل کسی کا وجود نہیں سمجھتا۔اندر قدم رکھتے ہی وضو کے لئے پانی مانگا اور وضو سے فراغت پا نماز ادا کی یا وظیفہ میں تھے۔در و دو خائف کا لڑکپن سے شوق ہے مکتب کے زمانہ میں تحفہ ہند تحفہ النور خلعت النور وغیرہ کتابیں اور سنی اور شیعہ عیسائی مناظرہ کی کتابیں دیکھا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کا ارادہ تھا کہ کل مذاہب کے خلاف اسلام کی تائید میں کتابیں لکھ کر شائع کریں۔دوسری شہادت دوسری شادت مشہور مسلم لیڈر مولوی ظفر علی صاحب آف زمیندار کے والد بزرگوار منشی سراج الدین صاحب مرحوم کی ہے: » مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء (؟) کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲- ۲۳ سال ہوگی اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہو تا تھا۔عوام سے کم مل تھے"۔تیسری شہادت جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے شمس العلماء مولانا سید میر تیسری شهادت حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی کی ہے۔مولانا صاحب سیالکوٹ ہی میں نہیں ہندوستان بھر میں علوم مشرقی کے بلند پایہ عالم اور مسلمانوں میں ایک نہایت ممتاز شخصیت کے حامل تھے ڈاکٹر محمد اقبال ایسے شہرہ آفاق فلسفی شاعر ابتداء میں آپ ہی سے شرف تلمذ رکھتے تھے جس پر انہیں ہمیشہ ناز رہا۔جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ میں قیام پذیر تھے مولانا صاحب موصوف کو بھی حضور سے اکثر ملاقات کا موقعہ ملتا تھا۔مولوی صاحب نے اس زمانہ میں حضور کو