تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 94 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 94

تاریخ احمدیت جلدا ۹۳ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام کے تکلفات کو بھی اس جگہ بھول جاتے۔بعض تنگ ظرف عیسائیوں نے پادری صاحب کو اس سے روکا اور کہا کہ اس میں آپ کی اور مشن کی خفت ہے آپ وہاں نہ جایا کریں۔لیکن پادری صاحب نے بڑے حلم اور متانت سے جواب دیا کہ یہ ایک عظیم الشان آدمی ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتا تم اس کو نہیں سمجھتے میں خوب سمجھتا ہوں"۔" پادری بٹلر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پر نور شخصیت بے مثال متانت و سنجیدگی اور زبردست قوت استدلال کا اس درجہ گہرا اثر تھا کہ جب وہ ولایت جانے لگے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الوداعی سلام کئے بغیر سیالکوٹ سے جانا گوارا نہ کیا۔چنانچہ وہ دفتر کے اوقات میں محض آپ کی آخری زیارت کے لئے کچھری آئے اور ڈپٹی کمشنر کے پوچھنے پر بتایا کہ صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے آیا ہوں اور پھر جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے۔اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔مذہبی تبادلہ خیالات کے دوران میں اکثر ضد و تعصب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے لیکن آپ کچھ ایسے دلکش اور پیارے الفاظ میں عیسائیت کے متعلق گفتگو فرماتے کہ خود عیسائیوں میں سے حق پسند طبقہ کو لطف آجاتا اور وہ اختلاف رائے کے باوجود آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ان دنوں مرزا مراد بیگ صاحب جالندهری مدیر اخبار " وزیر ہند" (جو ابتداء مرزا شکسته تخلص کرتے تھے لیکن عیسائیوں سے مباحثات کے بعد مرزا موجد کہلائے) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے اور آپ کے علم کلام اور مسکت و معقول دلائل سے فیض یاب ہو کر اس سے اپنے رنگ میں اخباری دنیا کو روشناس کراتے۔مرزا موحد حضرت اقدس کے جوش ایمانی اچھوتے طرز استدلال اور ناقابل تردید براہین پر حد درجہ فریفتہ تھے۔جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ سے تشریف لے آئے تو وہ قادیان میں بھی کئی بار آپ کی زیارت و استفادہ کے لئے حاضر ہوتے رہے۔وہ مسلمان، ہندو اور آپ کی پاکیزہ جوانی اور مقدس شباب کے متعلق چند شہادتیں سکھ یا عیسائی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ ملازمت میں کچھری کے عملہ میں شامل تھے آپ کی امانت و دیانت ، تقوی اور نیکی کے دل سے قائل تھے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو آپ کی پاکیزہ جوانی اور مقدس شباب کا ثنا خواں اور مداح نہ ہو۔ضلع کا سب سے بڑا افسر (ڈپٹی کمشنر) آپ کو نایت درجہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا تھا۔بلکہ ایک روایت سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ جب حضور