تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 92
تاریخ احمدیت۔جلدا 91 قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام در اصل ۱۸۵۷ء نے انگریز کو پوری طرح محسوس کروا دیا تھا کہ اگر عیسائیت کے فروغ کے لئے پوری جدوجہد کی جاتی تو ملک کی اکثریت عیسائیت کی چوکھٹ پر آجاتی اور اس قسم کے واقعات کی نوبت ہی نہیں آسکتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے پوری قوت سے اور صاف کھل کر عیسائیت کی پشت پناہی شروع کر دی اور پادریوں کی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ایک پاکستانی ادیب لکھتے ہیں انگریزوں کی غدر میں فتوحات کے بعد عیسائی مشنریوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے "۔یہ ای صورت حال کا لازمی نتیجہ تھا کہ خود ملک کے بعض منصف مزاج اور خدا ترس پادری بر ملا تسلیم کرتے تھے کہ اگر ۱۸۵۷ء کی مانند پھر مندر ہوا تو عماد الدین ایسے بدسگالوں کی بد زبانیوں اور بے ہودہ گوئیوں سے ہوگا۔چنانچہ ۱۸۶۴ء میں ہنری لارنس کو جو قبل از میں چیف کمشنر تھا اور ابتداء ہی سے عیسائیت کی ترقی و اشاعت میں دیوانہ وار کوشش کرنا اپنا سیاسی فرض سمجھتا تھا ہندوستان کا وائسرائے بنا دیا گیا۔یہ وہ شخص تھا جس کی قطعی رائے تھی کہ : " غدر کے بھڑکانے میں سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ برطانیہ حسب عادت اپنے مذہب کے معاملہ میں بزدلی دکھاتا رہا۔وہ سر ہربرٹ ایڈورڈز کے اس نظریہ کا پر جوش حامی تھا کہ "غدر کے برپا ہونے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ عیسائیت کی تبلیغ کی گئی۔بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ عیسائیت کی تبلیغ نہیں کی گئی " ہنری لارنس ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۹ء تک وائسرائے رہا اور اس نے اپنے زمانہ اقتدار میں عیسائیت کے پھیلانے کی زبردست جدوجہد کی جس کا اعتراف خود فاضل مسیحی محققین کو ہے۔ایک چرچ مشنری لکھتے ہیں کہ : جب ہنری لارنس وائسرائے مقرر ہوئے تو انہوں نے مسیحی تبلیغ کی اور وسیع کوشش کی بہر حال یہ تھا سیالکوٹ کے تبلیغی "میدان جنگ" کا نقشہ اور ملکی سیاست کا ماحول۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان سے سیالکوٹ تشریف لائے اور ایک عام سرکاری ملازم ہونے کے باوجود اس برطانوی اقدام کے خلاف تن تنها پر جوش محاذ قائم کر لیا۔اس زمانہ میں عیسائیت کے دفاع میں آپ کا ایک مناظر و با اشبہ حکومت وقت کے آئین سے نہیں اس کے مخصوص مفادات سے بغاوت " کے مترادف تھا۔جمعیتہ العامیا و زید نے ایک سابق ناظم مولانا سید محمد میاں صاحب لکھتے ہیں: " رد عیسائیت بظاہر ایک واعظانہ اور مناظرانہ چیز ہے جس کو سیاست سے بنتا ہر کوئی تعامل نہیں لیکن غور کرو جب حکومت عیسائی گر ہو۔جس کا نقطہ نظر ہی یہ ہو کہ سارا ہندوستان عیسائی مذہب اختیار کرلے اور اس کی تمنا دلوں کے پردوں سے نکل کر زبانوں تک آ رہی ہو اور بے آئین اور جابر