تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 89 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 89

تاریخ احمدیت جلد AA قیام سیالکوٹ اور تاریخ اسلام رام کے متعلق اوپر گذر چکی ہے جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ سیالکوٹ میں آپ کی تبلیغی جدوجہد کا مرکز اکثر و بیشتر اس وقت کے جغادری عیسائی پادری اور متاد ہوتے تھے۔پورے ہندوستان کو عیسائیت کے زیر نگیں کرنے کی برطانوی سازش حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے تبلیغ اسلام کی زبردست جدوجہد کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیت کی پشت پر برطانوی حکومت کی پوری مشینری کام کر رہی تھی اور ہندوستان میں پنجاب کو اور پنجاب میں لدھیانہ اور سیالکوٹ کو عیسائیت کا مرکز بنا کر عیسائیت کا جال پھیلانے کی سر توڑ کوششیں جاری تھیں۔انگریزی پالیسی انگریز ہندوستان میں ابتداء ہی سے یہ پالیسی لے کر آئے تھے کہ وہ دولت و ثروت کے بل بوتے پر اس بر صغیر پر قابض ہو جائیں اور یہاں اپنا دائمی اثر و اقتدار قائم کرنے کے لئے ایسا طبقہ پیدا کر دیں کہ جو رنگ و خون کے اعتبار سے ہندوستانی ہو مگر اپنے مذاق اپنی را رائے، معاشرتی الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔Z برطانوی حکومت نے اس پالیسی پر ابتداء میں جس طرح عمل کیا وہ اس کی ڈپلومیسی کا شاہکار تھا۔سرسید مرحوم نے اسباب بغاوت ہند میں ان کارروائیوں کو بڑی تفصیل سے بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادریوں کو مقرر کیا ہے ان کو تنخواہ دی جاتی ہے۔دیگر اخراجات اور تقسیم کتب کے لئے بڑی بڑی رقمیں دی جاتی ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون ہیں۔حکام شہر اور فوج کے افسر ماتحتوں سے مذہبی گفتگو کرتے تھے۔اپنی کو ٹھیوں پر بلا بلا کر پادریوں کا وعظ سنواتے تھے۔غرضکہ اس بات نے یہاں تک ترقی پکڑی تھی کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں ہمارا یا ہماری اولاد کا مذہب قائم رہے گا"۔ہندوستان کو عیسائیت کی آغوش میں دینے کی پالیسی جو ابھی تک خفیہ طور پر اختیار کی جاتی تھی ۱۸۵۷ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں گونجنے لگی۔چنانچہ پارلیمانی ممبر مسٹر - لنگس نے ان دنوں ایک تقریر میں کہا : " خداوند تعالٰی نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہندوستان کی سلطنت انگلستان کے زیر نگیں ہے تاکہ عیسی مسیح کی فتح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک برائے ہر شخص کو اپنی تمام