تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 88
تاریخ احمدیت جلدا ۸۷ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ذکر سیالکوٹ میں قیام کے بعض مختصر حالات فرمایا کرتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایک مرہٹہ گوپی ناتھ بھاگ کر ریاست جموں میں ایک باغ میں رہائش رکھتا تھا۔اس کے متعلق انگریزی حکومت نے اعلان عام کر رکھا تھا کہ اگر اس کو تحصیلدار پکڑے تو اسے اسٹنٹ کمشنر کا عہدہ دیا جائے گا۔اور کے اگر ڈپٹی کمشنر پکڑلے تو اسے کمشنر بنا دیا جائے گا۔چنانچہ جب وہ مرہٹہ گرفتار ہوا تو اس کا بیان آپ نے قلمبند فرمایا کیونکہ اس کا مطالبہ تھا کہ میں اپنا بیان ایک معزز خاندانی شریف افسر یا حاکم کو لکھواؤں گا۔ملازمت کے دوران میں آپ نے خود بھی محض خلق خدا کو قانونی الجھنوں سے بچانے اور ان کے شہری حقوق دلانے کے لئے مختاری کے امتحان کی تیاری کی اور قانون کا ابتدائی لٹریچر بھی مطالعہ فرمایا مگر چونکہ آپ دنیا والوں کے کیس لڑنے کے لئے نہیں آئے تھے محض اسلام کی وکالت کے لئے پیدا کئے گئے تھے اس لئے آپ اس کے امتحان میں تو کامیاب نہیں ہو سکے مگر آپ نے بعد کو اسلام کے وکیل ہونے کا حق اس خوبی سے سر انجام دیا کہ عالم اسلام عش عش کر اٹھا اور پھر خدا تعالٰی نے یہاں تک عرش پر خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے فروعی اختلافات کو دور کرنے کے لئے آپ کو حکم عدل یعنی منصف حج کے منصب پر سرفراز کر دیا۔بہر حال مشیت ایزدی کا معاملہ جدا ہے جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے مختاری کے امتحان کی تیاری میں بھی مفلوک الحال انسانیت کی خدمت کا جذبہ کا بہ کار فرما تھا جو ہمیشہ ہی آپ کا طرہ امتیاز رہا۔امتحان میں کامیاب نہ ہونے کی ایک ظاہری وجہ یہ پیدا ہوئی کہ بائیس امیدوار شامل امتحان ہوئے تھے جن میں سے ایک نارائن سنگھ نامی امیدوار امتحان میں شرارت کرتے پکڑا گیا جس کی وجہ سے سب ہی امیدوار فیل کر دیے گئے "۔حضرت اقدس کی طرف سے تبلیغ اسلام کی مہم کا آغاز قبلا میں کم و بیش تیرہ tt سال سے آپ ناموس مصطفی ال کے تحفظ کے لئے جس معرکہ کی تیاری کر رہے تھے۔سیالکوٹ کی سرزمین اس کا سب سے پہلا " میدان جنگ بنی۔ان دنوں حضور علیہ السلام لالہ مھیم سین سے مذہبی مسائل پر اکثر گفتگو فرماتے تھے بلکہ آپ نے تحریری رنگ میں بھی قرآن مجید کی سچائی ثابت کر کے ان کا حق رفاقت ادا کیا۔چنانچہ ایک عرصہ ہو الالہ صاحب آنجہانی کے بیٹے جناب لالہ کنور سین صاحب نے پرانے کاغذات سے حضور کا ایک تبلیغی مکتوب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو بھجوایا تھا جس میں حضور نے سورہ فاتحہ کی روشنی میں بت پرستی کے مسئلہ پر زبردست تنقید فرمائی ہے۔پیغام حق پہنچانے کی دوسری مثال سبح