تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 84 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 84

تاریخ احمدیت جلدا AF قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام والے زمیندار ان کے مکان تک ان کے پیچھے آجاتے۔تو حضور پر نور ہمارے نانا کو بلاتے اور کہتے کہ فضل دین میرا پیچھا ان سے چھڑا دو یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔چنانچہ فضل دین صاحب ان زمینداروں کو سمجھاتے کہ جو تمہارا کام ہے مرزا صاحب کچھری میں ہی کر دیں گے۔یہ زمانہ جو آپ نے یوسفی شان سے ملازمت میں بسر کیا آپ اسے قید خانہ سے کسی طرح کم نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ کی والدہ محترمہ نے قادیان کے ایک حجام حیات نامی کے ذریعہ سے آپ کو کپڑوں کے چار جوڑے سیالکوٹ بھجوائے۔آپ کی فیاض طبیعت نے اسے خالی ہاتھ بھجوانا گوارا نہ کیا اور انہی نئے جوڑوں میں سے ایک جوڑا اس کے حوالے کر دیا۔حالانکہ وہ خاص اہتمام سے آپ ہی کے لئے بھجوائے گئے تھے۔حجام نے برسبیل تذکرہ ملازمت کے متعلق عرض کیا کہ آپ کو پسند ہے؟ حضرت نے بے ساختہ فرمایا قید خانہ ہی ہے "۔اس تاثر کا نتیجہ تھا کہ آپ دفتری معاملات میں باوجود تندہی کے ایک بے مثال شان استغناء کے مالک تھے جس کو خاندانی وجاہت اور دماغی صلاحیتوں نے اور بھی نکھار دیا تھا۔ان دنوں ضلع سیالکوٹ کے دفاتر کا سپر نٹنڈنٹ ایک شخص پنڈت سج رام تھا۔یہ شخص اسلام کا بد ترین معاند اور سخت کینہ پرور انسان تھا۔وہ اس خود فریبی کا شکار تھا کہ آپ چونکہ میرے ماتحت ایک سرشتہ میں ملازم ہیں اس لئے انہیں دفتری معاملات میں ہی نہیں، مذہبی معاملات میں بھی دب کر رہنا ہو گا۔یہ بد بخت اکثر اپنی سیہ باطنی کی وجہ سے اسلام پر اعتراض کرتا اور آنحضرت ﷺ پر زبان طعن دراز کرتا رہتا تھا۔مگر عاشق رسول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا کی توہین ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے۔اور نہ کر سکتے تھے۔اس لئے ہر قسم کے عواقب اور خطرات سے بے نیاز ہو کر ایک بے باک مجاہد کی حیثیت سے ڈٹ کر جواب دیتے۔آپ کے زبر دست دلائل سے لاجواب اور مبہوت ہونے کے بعد زچ ہو جاتا تو اپنی بے بسی کی کسر نکالنے کے لئے دفتری معالمات کا سہارا لے کر آپ کو تکلیف دینے کی کوئی نئی سے نئی صورت پیدا کر لیتا اور اس مخالفت میں وہ اخلاق و شرافت کے ادنی ترین تقاضوں کو بھی پامال کر دینے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔یہ کشمکش دو ایک دن کے لئے نہیں تھی بلکہ مسلسل چار سال تک قائم رہی۔ایک طرف شوخ چشمی کی حد تھی تو دوسری طرف ابراہیمی صبر کا امتحان ہو رہا تھا۔حضور کے ہندو دوست لاله محیم سین (جنہیں آپ سے بٹالہ میں ہم مکتب ہونے کے نیاز حاصل تھے اور آپ پر جان چھڑکتے تھے ) یہ صورت حال دیکھ کر اکثر مشورہ دیتے کہ دنیا دی طور پر آپ کی ترقی سپر نٹنڈنٹ ہی سے وابستہ ہے اس لئے اگر اس کی طرف سے ایسی مخالفانہ کارروائی ہو تو الجھنے کی بجائے ٹال دیا کیجئے ورنہ اس مزاحمت میں آپ کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔لیکن خدا کے جانباز جرنیل کی نگاہ میں دنیا کے اس