تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 83 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 83

تاریخ احمدیت جلدا 사 قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام نہیں اور یہ کہہ کر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی آواز آئی۔تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا۔مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور وہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جاپڑی اور سب بچ گئے " چوبارہ گرنے کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام حافظ محمد شفیع صاحب قاری آف سیالکوٹ کے نانا فضل دین صاحب کے مکان واقع کشمیری محلہ 8 میں اقامت گزین ہو گئے۔اس کے بعد ( بروایت میرحسن صاحب سیالکوٹی) آپ سیالکوٹ کی جامع مسجد کے سامنے حکیم منصب علی صاحب وثیقہ نویس کے ہمراہ ایک بیٹھک میں رہنے لگے اور غالبا یہیں آخر تک مقیم رہے۔یہ سبھی مقامات مکانیت کے لحاظ سے مختصر اور بے رونق سے تھے جن میں کوئی ظاہری کشش اور دلچسپی نہیں تھی جس سے حضور کی غیر معمولی سادگی اور خلوت پسندی کا پتہ چلتا ہے۔فضل الدین صاحب کی روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدائی حفاظت کا ایک یہ واقعہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا۔ایک دن بارش ہو رہی تھی۔جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی۔لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گبری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ ارد گرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا"۔سرکاری ملازمت میں آپ کا معمول اور شان استغناء آپ جب سرکاری ملازمت میں آئے تو عام اہلکاروں میں تھے مگر جلد ہی آپ کی خداداد قابلیت کا عوام پر ہی نہیں حکومت کے سر بر آوردہ افسروں پر بھی سکہ بیٹھ گیا اور ضلع بھر میں آپ کی علمی شان اور محققانہ طبیعت کے غلغلہ بلند ہونے شروع ہو گئے۔دوسرے سرکاری ملازموں کی اکثریت جہاں ملک و قوم کے لئے موجب ننگ تھی اور اپنی تمام تر کوشش اور سعی میں دنیا پرستی ، رشوت رنا اور فریب میں مبتلا تھی وہاں آپ ہر قسم کی آلودگیوں سے بالکل پاک تھے۔آپ دفتر میں اپنا مقبوضہ کام پوری توجہ دیانتداری محنت اور ذمہ داری سے ادا فرماتے مگر دفتری اوقات کے بعد کچھری کے معالمات سے آپ یوں دستکش ہوتے کہ گویا ان امور سے آپ کو زندگی بھر سابقہ ہی نہیں پڑا۔چنانچہ حافظ محمد شفیع صاحب کا بیان ہے کہ ان کے نانا فضل دین صاحب بتایا کرتے تھے کہ حضرت اقدس جب کچھری سے واپس آتے تو چونکہ آپ اہلمد تھے۔مقدمہ