لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 76 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 76

76 اور اس طرح اس پاک اور مقدس وجود کو جس کی کل انبیاء بشارتیں دیتے چلے آئے تھے اور جس نے ساری مذہبی دنیا میں زندہ مذہب زندہ خدا اور زندہ نبی کو پیش کر کے ایک روحانی انقلاب پیدا کر دیا اولا در بوہ میں ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ سے مخلصانہ تعلقات رکھتی ہے۔” جب جنازہ قادیان پہنچا تو لاہور کے اکابر جماعت کا مشورہ یہ تھا کہ قبر پختہ بنائی جائے۔ان دنوں قادیان میں کوئی اینٹوں کا بھٹہ نہ تھا بلکہ پختہ اینٹیں بٹالہ سے منگوائی جاتی تھیں۔اس لئے پختہ اینٹوں کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحن کی ایک پردہ کی دیوار سے پختہ اینٹیں اکھیڑی گئیں اور گدھوں پر لا کر بہشتی مقبرہ لے جائی گئیں۔یہ اینٹیں چھوٹے سائز کی تھیں۔مستری صاحب کہتے ہیں کہ قاضی عبدالرحیم صاحب نے مجھے اور مستری محمد اسماعیل صاحب کو جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ملازم تھے اور معماری کا کام جانتے تھے بلایا اور ہم قبر بنانے لگے۔آپ کی قبر ساڑھے سات فٹ لمبی تھی اور چار یا پونے چارفٹ چوڑی تھی۔اس کے اندر پختہ اینٹوں کی جو چھوٹے سائز کی تھیں ایک چار دیواری بنائی گئی۔یہ دیواریں چھ سات انچ موٹی تھیں اور زمین سے اڑھائی فٹ اونچی تھیں۔جب یہ چار دیواری پختہ اینٹوں کی قبر کے اندر بن چکی تو میں نے قاضی صاحب سے کہا کہ اب چھوٹی اینٹوں کی ڈاٹ سیمنٹ یا چونہ سے لگنی چاہئے تب محفوظ رہ سکے گی۔انہوں نے کہا کہ حضرت مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے پوچھ لیتے ہیں۔آپ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کی قبر اوپر سے پکی نہیں ہے اس لئے یہ بھی پکی نہیں بنانی چاہئے۔اس کے بعد ہم نے ڈاٹ کے لئے کچی اینٹوں کو گرانا شروع کر دیا۔اس وقت ہمیں خیال آیا کہ اگر یونہی ڈاٹ لگادی گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسد اطہر پر مٹی اور کنکریاں وغیرہ گریں گی اس لئے بہتر ہے کہ اس پختہ چار دیواری کے اوپر تختے رکھ دیئے جائیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے اس تابوت کو جو لا ہور سے لایا گیا تھا ایک احمدی دوست مستری فقیر محمد صاحب نے کاٹا اور اس کے تختے بنا بنا کر اوپر رکھے مگر وہ تختے پورے نہ ہوئے۔اس پر ایک پرانی میز کا فرش اکھیڑا گیا اور اس کے تختے بنائے گئے تب اس چار دیواری کے تختہ مکمل ہوئے۔مستری صاحب کہتے ہیں کہ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد میں جلدی سے گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رخ انور کی آخری بار زیارت کی۔اس وقت کثرت سے لوگ آپ کی زیارت کر چکے تھے۔میں نے جب آپ کو دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے آپ سورہے ہیں۔آپ کے چہرہ مبارک پر کوئی زردی وغیرہ نہیں تھی۔زیارت سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اب جلدی دفنانا چاہئے۔مستری صاحب کہتے ہیں اس وقت معا میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا اور میں نے کچھ مزدور ساتھ لئے اور جلدی سے باہر چلا گیا۔ان دنوں بہشتی مقبرہ کے باغ کے باہر قریب ہی ایک کٹواں لگ رہا تھا۔میں نے مزدوروں سے کہا کہ یہاں سے فوراریت لے چلو اور خود بھی ریت اٹھالی اور پھر چھلنی سے اسے چھانا اور اس کے بعد قبر کے نیچے میں