لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 75
75 کے مسیح محمدی کے عاشقوں نے چند گھنٹوں کے اندر اندر نعش مبارک قادیان پہنچا دی اور یہ جسد اطہر و مبارک اس باغ میں جو بہشتی مقبرہ کے ملحق ہے بحفاظت تمام رکھ دیا گیا اور جماعت کے تمام دوستوں کو جو ملک کے طول و عرض سے جمع ہو گئے تھے اپنے محبوب آقا کی آخری زیارت کا موقعہ دیا گیا۔۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو تمام حاضر الوقت جماعت نے متفقہ طور پر حضرت مولانا حکیم حافظ نورالدین صاحب کو حضور کا پہلا خلیفہ منتخب کر کے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور نماز جنازہ کے بعد جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے پڑھائی۔شام کے چھ بجے حضور کا جنازہ بہشتی مقبرہ میں لے جا کر فن کر دیا گیا ہے ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تدفین کے متعلق مرحوم و مغفور مولا نا محمد یعقوب صاحب فاضل سابق انچارج صیغہ زود نویسی ربوہ کا ایک نوٹ درج کیا جاتا ہے جو آنمرحوم نے محترم مستری مہر دین صاحب سے مل کر اور سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کر کے بڑی محنت سے لکھا تھا اور گو اس کتاب کے مضمون کے لحاظ سے اس کے اندراج کا یہاں موقعہ نہیں تھا مگر میں یہاں محض اس لئے درج کر رہا ہوں کہ یہ تاریخی مواد محفوظ ہو جائے وہو ہذا۔اس جگہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسد اطہر کو لحد میں نہیں بلکہ شق میں رکھا گیا ہے۔روایت حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل۔میاں رحم دین صاحب باورچی حکیم دین محمد صاحب و دیگر صحابہ اور بغیر تابوت کے آپ کو دفن کیا گیا ہے۔تدفین کے وقت آپ کی قبر کی تیاری حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی کی زیر نگرانی ہوئی۔(اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۷۲) کام کرنے کے لئے جو مزدور اور مستری لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک مستری حضرت میاں مہر دین صاحب ولد مستری گوہر دین صاحب تھے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہیں اور قادیان کے قدیمی باشندے ہیں۔ان کی بیعت 90ء کی ہے اور اس وقت نوابزادہ میاں محمد احمد خان صاحب کی زمینوں پر نگرانی کا کام کر رہے ہیں۔وہ چونکہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے حضور کی قبر کی تیاری کا کام مکمل کیا۔اس لئے میں اب ذیل میں انہی کے بیان کردہ واقعات درج کرتا ہوں۔یہ واقعات میں نے خودان کی زبان سے سنے ہیں۔مستری صاحب کی عمر گو اس وقت اسی سال سے زیادہ ہے مگر جسمانی قومی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے ہیں اور دماغ بھی پوری طرح کام کرتا ہے اور واقعات کو انہوں نے خوب اچھی طرح یا درکھا ہے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی اطلاع لاہور سے قادیان پہنچ چکی تھی اس لئے بہشتی مقبرہ میں آپ کی قبر راتوں رات تیار کی گئی۔قبر کھودنے میں ثواب کی خاطر پانچ سات احمدی دوستوں نے حصہ لیا۔جن میں سے میاں امام دین، میاں فضل دین اور میاں صدر الدین صاحبان کے نام انہیں خاص طور پر یاد ہیں۔میاں صدر الدین صاحب نے خدا تعالیٰ کے فضل سے لمبی عمر پائی اور تقسیم ملک کے بعد وہ قادیان میں ہی بطور درویش مقیم رہے۔ان کی