لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 64
64 فرمايا لا يدخل المومن في حجر واحد مرتين۔ہم خوب آزما چکے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل منافق ہوتے ہیں۔ان کا حال یہ ہے واذا لقوا الذين امنوا قالوا امنا واذا خلوا الى شياطينهم قالوا انا معكم انما نحن مستهزؤن یعنی سامنے تو کہتے ہیں کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی مخالفت نہیں۔مگر جب اپنے لوگوں سے مخفی بالطبع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ان سے استہزاء کر رہے تھے۔پس جب تک یہ لوگ ایک اشتہار نہ دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مومن سمجھتے ہیں بلکہ ان کو کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو میں آج ہی اپنی جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں۔ہم سچائی کے پابند ہیں۔آپ ہمیں شریعت اسلام سے باہر مجبور نہیں کر سکتے۔۔۔قرآن مجید میں فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد و منهم سابق بالخیرات۔ہم تو تینوں طبقوں کے لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں۔مگر ان کو کیا کہیں کہ جو مومن کو کا فرکہیں ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک وہ ان سے اپنے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیح کا فر سمجھتے ہیں۔۲۲ ۱۔مئی ۱۹۰۸ء کی رات کو آپ کو الہام ہوا مکن تکیه برعمر نا پائیدار یعنی نا پائیدار عمر پر بھروسہ نہ کر جس سے معلوم ہوا کہ وفات کا وقت بالکل قریب ہے مگر حضور پورے اطمینان کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہے۔رؤسائے لاہور کو دعوت طعام اور تبلیغ ہدایت۔۷ امئی ۱۹۰۸ء حضرت اقدس یہ چاہتے تھے کہ لاہور کے عمائد ورؤ سا تک اپنا دعویٰ اور دلائل پہنچانے کا کوئی احسن انتظام کیا جائے۔چنانچہ اس غرض کیلئے ۱۷۔مئی کو ایک دعوت طعام کا انتظام کیا گیا۔حضور سے ملاقات کا انتظام ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے صحن میں کیا گیا تھا۔جب شامیانے کے نیچے سب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت اقدس نے لوگوں کی درخواست پرا1 بجے تقریر شروع فرما دی۔حضور نے اپنی تقریر میں ان تمام اعتراضات کے مکمل اور تسلی بخش جوابات دیئے جو حضور کے دعاوی اور