لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 601
601 مکرم قریشی محمود احمد صاحب معتبر مکرم شیخ عبدالحق صاحب انجینئر مکرم شیخ عبدالحمید صاحب شملوی مکرم با بو فضل دین صاحب مکرم ملک عبد اللطیف صاحب ستکو ہی مکرم با بومحمد شفیع صاحب مکرم چوہدری نوراحمد خاں صاحب مکرم میاں محمد یحیی صاحب مکرم ماسٹر محمد ابرہیم صاحب مکرم مولوی عبدالحکیم صاحب مکرم شیخ عبد القادر صاحب لائلپوری مکرم شیخ ریاض محمود صاحب مکرم چوہدری محمد اشرف صاحب مبلغین و مربیان لاہور لاہور میں جن مبلغین و مربیان کو کام کرنے کا موقعہ ملا۔ان میں اولیت کا سہرا حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکٹی کے سر ہے۔آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت خلیفہ اسی الثانی کے زمانہ میں ایک لمبا عرصہ کام کیا ہے۔غیر مبائعین کے فتنہ کے ازالہ میں آپ نے دن رات انتھک محنت اور کوشش کی۔آپ کا عالمانہ اور عارفانہ درس خاص شہرت رکھتا تھا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی بھی تھے اور علم لدنی سے بھی آپ کو وافر حصہ ملا تھا۔آپ کے بعد محترم مولوی ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا اور محترم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملہوی حال مبلغ مغربی افریقہ کو لاہور میں اصلاح وارشاد کے کام کی توفیق ملی۔اول الذکر و ہی بزرگ ہیں جنہوں نے مبلغین کلاس پاس کرنے کے معا بعد حضرت امیر المومنین خليفة امسیح الثانی کے ارشاد پر بخارا کا رخ کیا اور جاتے ہی گرفتار کر لئے گئے۔اڑھائی سال تک قید میں روسی حکومت کے جبر و تشدد کا شکار رہے۔بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے فصل سے رہائی پا کر واپس قادیان پہنچے۔جب ذرا صحت بحال ہوئی تو احباب اور بزرگوں کے زور دینے پر روس میں قید و بند کے حالات پر ایک کتاب ”آپ بیتی لکھی جو بیحد مقبول ہوئی۔اب اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے۔کچھ عرصہ آپ نے لاہور میں بھی بحیثیت مبلغ کام کیا ہے۔آج کل آپ مرکز میں نظارت اصلاح وارشاد کے ماتحت شعبہ رشتہ ناطہ کے انچارج ہیں۔اللهم متعنا بطول حياته۔محترم مولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی بھی جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلبہ میں سے ہیں۔