لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 52
52 کشمیری بازار سے کچھ کتابیں خریدیں اور اس دوران میں جو جمعہ کا دن آیا تو آپ نے گمٹی بازار والی مسجد میں جو حضرت مولوی غلام حسین صاحب کی مسجد کہلاتی تھی۔ایک نہایت ہی لطیف وعظ بھی فرمایا۔دوران قیام میں ایک صاحب نے اپنے کسی عزیز کی شادی پر دعوت ولیمہ دی۔اس دعوت میں جولوگ مدعو تھے ان میں حضرت صاحبزادہ صاحب رضی اللہ عنہ کا بھی نام تھا۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل فرمایا کرتے تھے کہ اس دعوت میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہمراہ میں بھی گیا تھا۔جب آپ دعوت کے کمرہ میں پہنچے تو دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے نہایت ہی قرینے سے چنے ہوئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب ابھی بیٹھے ہی تھے کہ آپ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور آپ نے اس کھانے کو دیکھ کر فارسی زبان میں مجھے فرمایا کہ تم لوگ مجھے یہاں گوہ کھلانے کے لئے لائے ہو؟ یہ کہہ کر اٹھے اور تیز تیز چلنے لگے۔آپ کا جبہ ہوا میں اڑ رہا تھا۔راستے میں آپ نے مجھے چار آنے دیدئیے اور فرمایا کہ نان اور کباب خرید لو۔میں نے حکم کی تعمیل کی۔پھر وہ نان اور کباب جو کافی مقدار میں تھے ہم لوگوں نے گمٹی بازار والی مسجد میں جو اس وقت احمدیوں کے پاس تھی بیٹھ کر کھائے۔میزبان نے جب اس طرح حضرت صاحبزادہ صاحب کو واپس جاتے ہوئے دیکھا تو وہ آپ کی کشفی نظر سے بہت متاثر ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دعوت سودی روپیہ سے کی گئی ہے۔۳۰ حضرت اقدس کی لاہور میں آمد اس بات سے جماعت کے باخبر لوگ خوب واقف ہیں کہ جن ایام میں گورداسپور میں حضور کے خلاف مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھین کی طرف سے مقدمات چل رہے تھے۔ادھر جماعت لاہور کے متواتر اصرار کی وجہ سے حضور نے لاہور تشریف لانے کا وعدہ بھی کر رکھا تھا۔۱۸/ اگست ۱۹۰۴ء کی پیشی کے بعد جو ۵ / ستمبر ۱۹۰۴ء کی تاریخ پڑی تو درمیانی وقفہ کو کافی سمجھ کر حضور لا ہور تشریف لے آئے۔حضور کی آمد کی خبر بجلی کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔چنانچہ جب حضور اسٹیشن پر پہنچے تو اسٹیشن پر ہندوؤں اور مسلمانوں کا اس قدر مجمع تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کافی تعداد میں انگریز بھی حضور کو دیکھنے کیلئے اسٹیشن پر پہنچے ہوئے تھے۔