لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 519 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 519

519 ہیں۔اول حضرت سیدہ ام طاہراحمد رضی اللہ عنہا کی بیماری اور وفات دوم حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو مصلح موعود ہونے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع۔سو پہلے اول الذکر واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔حضرت سیدہ مرحومہ رضی اللہ عنہا جب آخری علالت سے بیمار ہوئیں تو قادیان میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے بڑی محنت سے علاج کیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ان کی زیادہ تکلیف کے مدنظر امرتسر سے ایک لیڈی ڈاکٹر اور لاہور سے کرنل ہیز کو بلوا کر معائنہ کروایا گیا۔چنانچہ ان کے مشورہ کے مطابق سیدہ مرحومہ کو لاہور لے جا کر علاج کروایا گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رقمطراز ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ۱۷۔دسمبر ۱۹۴۳ء کو بروز جمعہ مرحومہ کو لاہور لے آئے اور لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں داخل کرا دیا اور پانچ میل کی لمبی مسافت طے کر کے صبح و شام دونوں وقت ان کی عیادت کیلئے ہسپتال تشریف لے جاتے رہے۔ہسپتال میں ابتداء افاقہ کی صورت پیدا ہوئی مگر پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ڈاکٹر کرنل ہیز کو ۱۴ - فروی ۱۹۴۴ء کو بروز جمعہ پیٹ کا اپریشن کرنا پڑا اور چند دن بعد پھر ایک دوسرا اپریشن ہوا۔مگر حالت دن بدن گرتی گئی اور کمزوری بڑھتی ہی چلی گئی۔آخر جب یہ دیکھا گیا کہ اس ہسپتال کے ڈاکٹر اپنا زور لگا کر ہمت ہار چکے ہیں اور اس جگہ پابندیاں بھی ایسی تھیں جو اس مذہبی اور روحانی ماحول کے منافی تھیں جو ایک مسلمان کو اپنے آخری لمحات میں حاصل ہونی چاہئیں تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور اس خاکسار کو فون کر کے لاہور بلوایا تا کہ مشورہ کیا جا سکے کہ کیوں نہ پیش آمدہ حالات میں سیدہ اُمّم طاہر کو احتیاط کے ساتھ قادیان پہنچا دیا جائے اور وہاں اپنی نگرانی میں علاج کیا جائے۔چنانچہ ہم دونوں لاہور پہنچے اور سیدہ مرحومہ کی بیماری میں ہمارا یہ چوتھا سفر تھا۔لیکن چونکہ ان کی حالت زیادہ کمزور پائی گئی۔اس لئے بالآخر یہی تجویز ہوئی کہ کسی ماہر ڈاکٹر کو دکھا کر کسی دوسرے ہسپتال میں منتقل کر لیا جائے۔چنانچہ کرنل بھر وچہ کے ساتھ بات کر کے اور انہیں آمادہ پا کر ۲۶ - فروی ۱۹۴۴ء کو بروز ہفتہ سیدہ مرحومہ کو سر گنگا رام ہسپتال میں ایک ایمبولنس کار کے ذریعہ احتیاط کے ساتھ منتقل کر دیا گیا اور اس انتقال ہسپتال کے