لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 517
517 کرنے کے لئے رجوع کیا ۱۰ حضور نے نیشنل لیگ کو حالات کا جائزہ لینے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ سب سے پہلا کام جو اس سلسلہ میں نیشنل لیگ نے کیا وہ یہ تھا کہ لیگ کی تمام شاخوں کو یہ ہدایت کی کہ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کو ہر جگہ یوم احتجاج مسجد شہید گنج “ منایا جائے اور سیاہ جھنڈیوں اور سیاہ نشانوں کے ساتھ گورنمنٹ پر واضح کیا جائے کہ مسلمانوں کے دل مسجد شہید گنج کی شہادت سے سخت زخمی اور مجروح ہو چکے ہیں۔گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ درد رسیدہ قلوب کو مطمئن کرنے کی کوئی صورت نکالے۔مگر ساتھ ہی ہدایت کی کہ چونکہ اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ جو لوگ اس وقت قوم اور ملت سے غداری کر رہے ہیں اور کھلم کھلا مسجد شہید گنج کی حفاظت کی تحریک کے خلاف کھڑے ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ میں اور کسی نہ کسی شکل میں کوشش کریں گے کہ کوئی فتنہ و فساد کھڑا کر کے مسلمانوں کو مبتلائے مصیبت کر دیں۔اس لئے پوری احتیاط سے کام لینا چاہئے اور باوجود کسی کے اشتعال دلانے کے بالکل پر امن اور قانون کے اندر رہنا چاہئے۔۸۱ نیشنل لیگ کا دوسرا کام دوسرا کام نیشنل لیگ نے یہ کیا کہ حضرت امیر المومنین کی ہدایات کے ماتحت مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔چنانچہ ہائیکورٹ کے حج آنریبل جسٹس کولڈ سٹریم نے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر دیں جس کے نتیجہ میں احرار کا سارا مخالفانہ پراپیگینڈا خاک میں مل گیا۔نیشنل لیگ کا تیسرا کام تیسرا کام نیشنل لیگ نے یہ کیا کہ جب ۲۹ اپریل ۱۹۳۶ء کو پنڈت جواہر لعل نہرو لاہور میں تشریف لائے تو صدر آل انڈیا نیشنل لیگ کی ہدایت کے ماتحت نیشنل لیگ کور نے پنڈت صاحب کا پانسورضا کاروں کے ساتھ استقبال کیا۔یار رہے کہ قریب کے زمانہ میں ہی جب ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے احمدیت کی مخالفت میں چند مضامین لکھے تھے تو پنڈت جواہر لعل نہرو نے نہایت عمدگی سے ان مضامین کا ردلکھا تھا اور ثابت کیا تھا