لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 511 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 511

511 دیا۔خاکسا مؤلف کتاب کو وہ زمانہ خوب یاد ہے۔احراریوں نے قریہ قریہ اور دیہہ دیہہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف ہزاروں جلسے کئے اور اس قدر لوگوں کو بھڑ کا یا کہ اگر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بار بار جماعت کو صبر و برداشت کی تلقین نہ کی جاتی تو قریب تھا کہ ملک میں سخت خونریزی تک نوبت پہنچ جاتی۔اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو خیر تھی مگر نوبت با ینجا رسید که حکومت کے بعض بڑے بڑے افسروں نے بھی در پردہ احراریوں کی پیٹھ ٹھونکنا شروع کر دی اور جماعت کے ساتھ صریح بے انصافی پر اتر آئے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے جماعت میں ایک سیاسی پارٹی قائم کرنے کا ارشاد فرمایا جس کا نام حضور نے نیشنل لیگ رکھا اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب کو اس کا صدر مقرر فرمایا۔اس لیگ کے ماتحت ایک رضا کاروں کی جماعت بھی قائم فرمائی جس کے قائد محترم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب مقرر ہوئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصہ کے اندر اندر ہی ہزاروں لوگ اس لیگ کے ممبر بن گئے۔حضور نے ابتدائی ایام میں لیگ کے سپر د جو کام کیا اس کی تفصیل یہ ہے۔حضور نے فرمایا: ” سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لئے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور سلسلہ کی ہتک ہے۔متواتر سلسلہ احمدیہ کی ہتک کی جارہی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حکام کو اس کے دور کرنے کی طرف وہ توجہ نہیں جو ہونی چاہیئے نہ وہ فرض ادا کر رہی ہے جو حکومت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت پنجاب نے اب تک نو کے قریب یا ممکن ہے ایک دو زیادہ پمفلٹ ضبط کئے ہیں جن میں سلسلہ احمدیہ پر حملے کئے گئے تھے۔مگر نو دس یا گیارہ پمفلٹوں کو ضبط کر لینا ہر گز یہ بات ثابت نہیں کرتا کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔کیونکہ ضبط ہونے والے پمفلٹ تو نو دس ہیں اور وہ ٹریکٹ رسالہ جات اور اشتہارات جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمیشہ گندی گالیاں دی جاتی ہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور گورنمنٹ ان کے متعلق کوئی نوٹس نہیں لیتی۔اگر سو قاتلوں میں سے نو یا دس قاتلوں کو گورنمنٹ سزا دے دیتی ہے تو ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ گورنمنٹ نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر