لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 512
512 دیا۔کیونکہ اگر اسے سو قاتلوں کا علم ہے تو جب تک وہ ہر ایک قاتل کو سزا نہیں دے لیتی وہ اپنے فرائض کو ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی۔اسی طرح گورنمنٹ کا ہمارے خلاف سینکڑوں رسالوں اشتہاروں اور کتابوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرنا اور نو دس پمفلٹوں کو ضبط کرنا بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ یہ نو ضبطیاں بھی محض یہ دکھانے کے لئے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کی طرف توجہ کی ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ نو دس پمفلٹوں کو تو ضبط کر لیا جائے مگر باقی اخبارات متواتر گالیوں سے پُر ہوں۔ٹریکٹ اور رسالے گالیوں سے پُر ہوں۔نظمیں ہمارے خلاف پڑھی جاتی ہوں مگر گورنمنٹ ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔۵ دوسری بات جس کی طرف لیگ کو توجہ کرنا چاہیئے وہ مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ * ہے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ کیس عدالت میں پیش ہو چکا ہے۔پس سب سے پہلے جماعت کو عدالتی چارہ جوئی ہی کرنی چاہیئے۔اس لئے کہ جس جس امر کے متعلق قانون نے ہمارے لئے راستہ کھولا ہوا ہو ان امور کے متعلق ہمیں اپنے قلم یا اپنی زبان کو اس وقت تک استعمال قادیان میں آریہ ہائی سکول کے پاس احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک جلسہ کیا تھا جس میں جماعت کے خلاف نہایت ہی اشتعال انگیز تقریریں کی گئی تھیں۔اور اگر جماعت احمدیہ کے ذمہ دار افسروں کی طرف سے احمدیوں کو بار بار صبر اور ضبط کی تعلیم نہ دی جاتی تو قریب تھا کہ خون کی ندیاں بہہ جاتیں۔احراری مقررین نے ایک بہت بڑے جلسہ میں جس میں شامل ہونے کے لئے ملک کے طول و عرض سے لوگ جمع ہوئے تھے جماعت احمدیہ کے امام اور دیگر معزز ہستیوں کے خلاف جی بھر کر انتہائی بدتہذیبی اور بدگوئی کا مظاہرہ کیا تھا جس پر گورنمنٹ نے دیگر مقررین کو چھوڑ کر صرف سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ کھڑا کیا تھا۔مگر کارروائی اس مقدمہ اس طرح چلائی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مقدمہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب کے خلاف نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف چلایا گیا ہے۔اس مقدمہ میں مسٹر کھوسلہ نے شاہ صاحب کو صرف پندرہ منٹ قید کی سزا دی۔اس کے بالمقابل ایک احمدی نے ایک کتاب لکھی جس میں صرف حوالہ جات جمع کئے گئے تھے اس پر اسے قید کی سزادی گئی مگر جب مسٹر کھوسلہ سیشن جج کے پاس اپیل کی گئی تو انہوں نے سزا کو چار سور و پیہ جرمانہ میں بدل دیا۔اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے دونوں فریق کے ایک ایک آدمی پر مقدمہ چلا کر انصاف کا تقاضا پورا کر دیا۔مگر حقیقت یہ تھی کہ ہمارے ایک آدمی نے جرم کیا اور اس ایک پر ہی مقدمہ چلایا گیا مگر دوسرے فریق کے سو آدمیوں نے جرم کیا جن میں سے صرف ایک آدمی پر مقدمہ چلایا گیا۔گویا احمدیوں کے سو فیصدی آدمیوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور احراریوں کے ایک فیصدی آدمیوں کے خلاف کارروائی ہوئی۔