لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 463
463 ہے کہ ذرا سے اختلاف کی بناء پر لوگوں کو اپنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا جب تک ہر نقطہ نظر کے لوگوں کو آزادی سے اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے کانگریس کبھی بھی سارے ملک کی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔۲۰ حضور کا یہ لیکچر حاضرین نے پوری توجہ انہماک سے سنا۔لیکچر کے اختتام پر صد رجلسہ نے کہا: یہ میں جناب مرزا صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جامع اور پُر مغز تقریر فرمائی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میں اپنا سارا وقت دینیات کے مطالعہ پر صرف کرتا ہوں۔مگر اس وقت آپ نے سیاسیات پر ایسی وسعت سے روشنی ڈالی ہے کہ زبان اور دل سے تحسین نکلتی ہے۔جناب مرزا صاحب نے اتفاق واتحاد کے ہر پہلو پر نگاہ ڈالی ہے جس کی سیاسی لیڈروں سے توقع نہیں ہو سکتی نہ وہ اس طرح نگاہ ڈال سکتے ہیں کیونکہ وہ کسی (سیاسی) پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔اس لئے آپ نے نہایت آزادی اور وسعت سے ہر پہلو کو بیان فرمایا۔۲۱ اسلام پر مغربی علماء کی نکتہ چینی ۱۵ نومبر ۱۹۲۳ء اس سے اگلے روز یعنی ۱۵۔نومبر ۱۹۲۳ء کو حضور نے آنریبل سر فضل حسین صاحب وزیر تعلیم کی صدارت میں اسلامیہ کالج کے ہال میں ایک اہم تقریر فرمائی جس کا موضوع یہ تھا۔اسلام پر مغربی علماء کی نکتہ چینی حضور کا یہ لیکچر ایسا جامع پُر از معلومات تھا کہ سامعین نے حیرت و استعجاب کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بالکل خاموشی اور سکون کے ساتھ اسے سنا۔66 ادارہ پیغام صلح کی طرف سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی رضا کارانہ وکالت : ۱۹۲۳ء کے واقعات میں ایک قابل ذکر واقعہ یہ بھی ہے کہ اس سال کے آخر میں ادارہ ”پیغام صلح پر ایک مضمون وید کا بھید“ کی اشاعت کی بناء پر مقدمہ دائر تھا جس کی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے رضا کارانہ طور پر وکالت کی۔