لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 455
455 وکلاء میں ہونے لگا۔آپ صدرانجمن احمدیہ کے قانونی مشیر بھی تھے۔اور جماعتی مقدمات میں بھی اکثر ہندوستان بھر میں جایا کرتے تھے۔1919ء میں حضرت امیر المومین کی لاہور میں دو اہم تقریریں ۱۲ فروری ۱۹۱۹ء کو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بغرض علاج لاہور میں تشریف لائے مگر علاج کے ساتھ ساتھ حضور نے دو عظیم الشان تقریریں بھی کیں۔حضور کی پہلی تقریر اسلام اور تعلقات بین الاقوام" کے موضوع پر ۲۳۔فروری کو بریڈ لاء ہال میں ہوئی اور دوسری اسلام میں اختلافات کا آغاز کے موضوع پر مارٹن ہسٹا ریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج کے زیر اہتمام یہ ہال میں ہوئی۔پہلی تقریر کے دوران صدارت کے فرائض حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے سرانجام دیئے اور دوسری تقریر جناب سید عبد القادر صاحب ایم۔اے کی صدارت میں ہوئی۔جناب سید القادر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا: آج کے لیکچرار اس عزت اس شہرت اور اس پائے کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب نا واقف ہوں۔آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے حلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیا تھا ، اس تقریر میں حضور نے عبداللہ بن سبا اور اس کے باغی ساتھیوں کی سازشوں اور فتنہ انگیزیوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور یہ مضمون جو نہایت ہی مشکل اور پیچیدہ تھا اور جسے مشہور تاریخ دان اصحاب بھی بیان کرنے سے ہچکچاتے تھے اسے حضور نے ایسے عام فہم اور دلکش پیرایہ میں بیان فرمایا۔کہ حاضرین عش عش کر اٹھے۔جناب سید عبدالقادر صاحب نے خاتمہ تقریر پر فرمایا: حضرات ! میں نے بھی کچھ تاریخی اوراق کی ورق گردانی کی ہے اور آج شام جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں اور میری علمیت کی روشنی اور جناب مرزا صاحب کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس ( میز پر رکھے ہوئے لیمپ کی طرف