لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 399 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 399

399 صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ اس میں حضور لکھتے ہیں : لا ہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ ہیں آدمی ہو نگے کے آئیے ! اب ہم ان میں افراد کی تعیین کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اربعین حصہ سوم“ میں جو ۱۹۰۰ء کی تصنیف ہے لکھا ہے: واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضعدار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کا رمولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں بمقام لاہور جس میں مرزا خدا بخش صاحب مصاحب نواب محمد علی خاں اور میاں معراج دین صاحب لاہوری اور مفتی محمد صادق صاحب اور صوفی محمد علی صاحب کلرک اور میاں چٹو صاحب لاہور اور خلیفہ رجب دین صاحب تاجر لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حکیم محمد حسین صاحب تا جر مر ہم عیسی اور میاں چراغ دین صاحب کلرک اور مولوی یار محمد صاحب موجود تھے۔“ ان احباب میں سے مندرجہ ذیل احباب لاہور میں باہر سے تشریف لائے ہوئے تھے۔(۱) مرزا خدا بخش صاحب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کے ملازم تھے۔کسی کام کی غرض سے لا ہور آئے ہوئے تھے۔(۲) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب بھی اپنے کسی کام کے لئے لا ہور تشریف لائے تھے۔(۳) حضرت مولوی یا ر محمد صاحب کی سکونت بھی لاہور میں نہیں تھی۔کسی کام کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے۔باقی سارے احباب ان ایام میں لاہور میں رہتے تھے۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا قیام بھی ان دنوں بوجہ ملازمت دفتر ا کونٹنٹ جنرل لاہور میں تھا۔پھر حضور علیہ السلام کی طرف سے احباب لاہور کی ایک فہرست شائع ہوئی جس میں اوپر کے سات افراد کے علاوہ مندرجہ ذیل پانچ افراد کے نام لکھے ہیں: شیخ رحمت اللہ صاحب، سید فضل شاہ صاحب، منشی تاج الدین صاحب، حکیم نور محمد صاحب، حکیم فضل الہی صاحب 2 واضح رہے کہ اس فہرست میں بیشک مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر