لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 368 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 368

368 پریس میں ملازم تھے۔اس لئے ڈاکٹر صاحب بچپن میں ہی اپنے والد ماجد کے پاس شملہ چلے گئے اور و ہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔محترم شیخ الہ دین صاحب شملوی کے ساتھ داروغہ صاحب کے گہرے تعلقات تھے۔ان کی تبلیغ سے آپ نے ۱۹۰۱ء میں احمدیت قبول کی۔ڈاکٹر صاحب کے والد صاحب آپ کو مزید تعلیم کے لئے علی گڑھ بھیجنا چاہتے تھے۔مگر محترم شیخ صاحب موصوف نے رائے دی کہ انہیں قادیان بھیجا جائے۔چنانچہ 19ء میں قادیان جا کر آپ نے نویں جماعت میں داخلہ لیا۔۱۹۰۶ ء میں آپ نے قادیان سے ایف۔اے کر کے میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ڈاکٹر بن کر آپ نے کچھ عرصہ سرحد میں اسسٹنٹ سرجن کے طور پر سرکاری ملازمت کی۔آپ ایک باکمال سرجن تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ ایک زخمی جس کی کھوپڑی میں دراڑ آ گئی تھی کا اپریشن کر رہے تھے کہ اپریشن روم میں وائسرائے کمانڈر انچیف اور گورنر سرحد آگئے مگر آپ اپنے کام میں ایسے مصروف تھے کہ آپ کو مطلقاً خبر نہ ہوئی۔جب اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ان افسران کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔لارڈ چیمسفورڈ نے آگے بڑھ کر آپ سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ ڈاکٹر تم تو ایک باکمال سرجن ہو۔چنانچہ اس نے آپ کو قیصر ہند کا میڈل دیا۔۵۰۰۰ روپیہ نقد اور خان بہادر کے خطاب کی سفارش کی اور سول سرجن کے عہدہ پر ترقی بھی دی۔۲۸ ۱۹۲۰ء میں آپ نے ملازمت سے استعفا دے دیا اور لاہور آ کر عزیز منزل میں پریکٹس شروع کی۔انجمن اشاعتِ اسلام لاہور کے رکن تو آپ شروع سے ہی تھے۔مگر لاہور پہنچ کر آپ نے عملاً بھی انجمن کے کاموں میں نمایاں حصہ لینا شروع کر دیا۔۱۹۳۵ء میں آپ انجمن کے دوامی ممبر چنے گئے۔۱۹۵۶ ء میں انجمن کے صدر بنے اور ۲۸۔ستمبر ۱۹۵۹ء کو آنت کے پھٹنے کے باعث وفات پائی۔فانالله وانا اليه راجعون۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ولادت : ۶۔فروری ۱۸۹۳ء بیعت : ۱۶ - ستمبر ۱۹۰۷ء حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۶۔فروری ۱۸۹۳ء کو بمقام سیالکوٹ پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب نے آپ کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ