لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 350 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 350

350 آنکھ کو زیادہ تکلیف ہو گئی۔آپریشن کروایا۔مگر پوری طرح صحت نہ ہوئی۔اس پر ان کی درخواست پر جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور نے انہیں فارغ کر کے ہیں روپے ماہوار ان کی پنشن مقرر کر دی جسے وہ اب تک لے رہے ہیں۔اولاد: چارلڑ کے پیدا ہوئے جو وفات پاچکے ہیں۔تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ان میں سے دوزندہ ہیں اور صاحب اولاد ہیں۔محترم شیخ نصیر الحق صاحب ولادت : غالبا فروری ۱۸۹۳ء بیعت : ۱۹۰۴ ء وفات : ۱۶/۱۵ فروری ۱۹۶۶ء درمیانی شب محترم جناب شیخ نصیر الحق صاحب حضرت شیخ شاہ دین صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ ہیں۔آپ کے والد محترم بھی صحابی تھے۔انہوں نے ۱۸۹۴ ء میں بیعت کی تھی۔آپ جب تعلیم حاصل کرنے کیلئے ۱۹۰۴ء میں قادیان تشریف لائے تو اس موقعہ پر بیعت کی۔آپ کا بیان ہے کہ : آپ نے یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو جماعت ششم میں داخلہ لیا۔دسمبر ۱۹۰۸ء تک قادیان میں تعلیم پائی۔اس کے بعد دھرم سالہ ضلع کانگڑہ لاہور اور شملہ میں تعلیم کی تکمیل کی۔نومبر ۱۹۱۳ء میں دفتر ڈائریکٹر جنرل ملٹری میں ملازم ہو گئے۔۱۹۴۳ء میں کلاس I آفیسر یعنی اسٹنٹ سیکرٹری آف ڈیفنس گورنمنٹ آف انڈیا مقرر ہوئے۔بعد ۱۲۵۔اگست ۱۹۴۷ء کو دفتر کے ساتھ راولپنڈی آگئے۔۱۹۵۳ء میں ریٹائر ہوئے۔اور ریٹائرمنٹ کے بعد سمن آبا د لا ہور میں سکونت اختیار کی۔آج کل آپ کی رہائش ۱۴۶/N سمن آباد میں ہے۔محترم شیخ صاحب ایک نہایت ہی مخلص اور ہمدرد انسان ہیں۔سلسلہ احمدیہ کے فدائی ہیں۔تنظیم جماعت کو ہر قیمت پر مقدم رکھتے ہیں۔سلسلہ کی خدمت کو فرض عین جانتے ہیں۔آپ نے اپنی ملازمت کے دوران میں اور بعد ازاں سینکڑوں آدمیوں کو کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ پہنچایا۔آج کل آپ کی صحت کمزور ہے۔اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔اللھم آمین محترم شیخ صاحب چونکہ عنفوان شباب سے ہی نیکی اور تقویٰ میں مشہور ہیں۔اس لئے لوگوں نے