لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 32
32 حسین صاحب بٹالوی، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب وو سیالکوٹی مدعو تھے۔جلسہ کیلئے ۲۶ - ۲۷ - ۲۸ دسمبر کی تاریخیں مقرر کی گئی تھیں اور جلسہ کے انعقاد کیلئے پہلے ٹاؤن ہال تجویز کیا گیا تھا مگر بعد میں اسلامیہ کالج واقعہ اندرون شیرانوالہ دروازہ کا وسیع ہال اس مقصد کیلئے حاصل کیا گیا۔حضرت اقدس ابھی مضمون لکھ ہی رہے تھے کہ آپ کو الہا ما بتایا گیا کہ آپ کا مضمون سب سے بالا رہے گا۔چنانچہ آپ نے اس وحی الہی کی اشاعت کیلئے مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۸۹۲ء کو یعنی جلسہ سے پانچ چھ روز قبل اشتہار شائع فرمایا جو یہ ہے: جلسه اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن ہال میں ۲۶۔۲۷۔۲۸ دسمبر ۱۸۹۶ء کو ہوگا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق و معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے اور جو شخص اس مضمون کو اوّل سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب سنے گا میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہو گا اور ایک نیا نو راس میں چمک اٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اس کے ہاتھ میں آ جائے گی۔یہ میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے دروغ سے منزہ ہے۔مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کیلئے مجبور کیا ہے کہ تا وہ قرآن شریف کے حُسن و جمال کا مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کس قدر ظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور نور سے نفرت رکھتے ہیں۔مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب رہے گا اور اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قو میں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اس کو اوّل سے آخر تک سنیں شرمندہ ہو جائیں گی۔اور ہرگز قادر نہیں ہوں گی کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھا سکیں خواہ وہ عیسائی ہوں خواہ آریہ اور