لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 320
320 ہمدرد دل رکھتی تھیں۔پابند صوم وصلوٰۃ دعا گو اور تہجد گزار تھیں۔بچوں کو اس رنگ میں تنبیہ فرما تھیں کہ اس کا اثر دل پر رہ جاتا۔مجھے یاد ہے میری بھتیجی امتہ الہادی سلمہا کی پیدائش پر خواتین مبارکہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعوت عصرانہ پر ہمارے ہاں مدعو تھیں۔میں ان دنوں نویں جماعت میں پڑھتی تھی۔غیر معمولی کام کی وجہ سے تھکاوٹ کے زیر اثر ان خواتین کے تشریف لے جانے کے بعد مغرب کے وقت ہی میں سوگئی اور صبح کی نماز نہیں پڑھی۔صبح اٹھی تو پوچھا کہ رات نماز پڑھی تھی۔میں نے کہا۔نہیں۔فرمایا۔خوشی کے مواقع پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کرتے ہیں یا بھول جاتے ہیں۔ان کی یہ ہلکی سی سرزنش میری زندگی سدھار گئی۔آپ سائل کی آواز سن کر بیکل ہو جایا کرتی تھیں۔اس غرض کے لئے آپ نے اپنی الماری میں ایک برتن رکھا ہوا تھا جس میں ریزگاری ڈالتی رہتیں۔گھر کے چھوٹے چھوٹے بچے فقیر کی صدا سنتے ہی اس برتن کا رخ کرتے اور اس میں سے پیسے نکال کر سائل کو دے آتے۔سفر کرتے وقت بھی اس غرض کے لئے کچھ رقم الگ رکھ لیتیں۔اڑوس پڑوس کے غرباء بھی آپ کی مدد سے محروم نہیں تھے۔آپ ہمیشہ ان کی دودھ دہی اور چھاچھ سے مدد فرماتیں۔اگر کسی وقت وہ خود لینے کے لئے نہ آتے تو اپنے بچوں کے ہاتھ بھجوا دیتیں۔حد درجہ مہمان نواز تھیں۔حضرت والد صاحب اور ان کے خاندان کی بھی نہایت درجہ خدمت گزار تھیں۔کھانا پکانا، سینا پرونا گوٹے کا کام نہایت اچھا کرتیں۔محلہ کی اکثر لڑکیوں نے آپ سے کپڑے کاٹنے اور سینے سیکھے۔سلسلہ کے کاموں میں بھی سرگرمی سے حصہ لیتیں تھیں۔قادیان میں بھی اور ہجرت کے بعد ماڈل ٹاؤن میں بھی برابر محصلہ کا کام کرتی رہیں۔ربوہ میں جلسہ سالانہ کے دوران خواتین کے ماتحت شعبہ تقسیم سالن کو متعد دمرتبہ سنبھالا۔حضرت اماں جان اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت، پیار اور عقیدت تھی۔گھر میں پھل دار پودے اور درخت لگانے کا بھی بہت شوق تھا اور پہلا پھل ہمیشہ حضرت ام المومنین کی خدمت میں پیش کیا کرتی تھیں۔قادیان میں ہمارے گھر کے صحن میں ایک اچھی قسم کا آم کا درخت تھا جس کے آم حضرت اماں جان کو بہت پسند تھے۔ایک دفعہ موسم سرما میں حضرت اماں جان سیر سے ا سہو کا تب ہے غالباً عشاء ہونا چاہئے۔