لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 321 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 321

321 واپسی پر ہمارے ہاں تشریف لائیں ( آپ اکثر اس شرف سے ہمیں نوازا کرتی تھیں ) میری والدہ ماجدہ نے حضرت اماں جان کی دستی چھڑی سے سنگترے تو ڑے حضرت اماں جان نے خود جھک جھک کر سنگترے اٹھائے اور فرماتی رہیں اے بیٹی بس بھی کرو کیا سارے سنگترے مجھے تو ڑ کر دے دوگی؟ بچوں کیلئے بھی رہنے دو۔اسی طرح چنبیلی اور موتیا کے جب پھول ہوتے تھے تو آپ انہیں چنتیں اور حضرت اماں جان کو بھیجتیں۔حضرت اماں جان بھی میری والدہ سے اپنے بچوں جیسا سلوک کرتی تھیں۔ان کی ہر خوشی کو اپنے با برکت وجود کی شمولیت سے بڑھایا۔بچوں کے بیاہوں پر اپنے دست مبارک سے تحفے دیئے اور نوازا اور اکثر فرما تیں۔بیٹی میں تمہارے لئے تمہارے میاں اور بچوں کے لئے بہت دعائیں کرتی ہوں۔حضرت اماں جان کو میری والدہ کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بہت پسند تھا خاص کر کریلے۔ایک دن حضرت والدہ صاحبہ حضرت ام ناصر صاحبہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ حضرت اماں جان تشریف لے آئیں۔کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بیٹی میری رضائی لوگی۔والدہ صاحبہ نے عرض کی۔اماں جان ! اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔ایک دفعہ ڈلہوزی سے واپس تشریف لانے پر جب میری والدہ حضرت ممدوحہ سے ملنے گئیں تو آپ انہیں اپنے سامان کے کمرہ میں لے گئیں۔ایک صندوق میں دو قمیضوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔فرمایا جو کپڑا پسند ہے لے لو۔اس پر حضرت والدہ صاحبہ نے قمیض کا ایک کپڑالے لیا۔دہلی سے واپسی پر میری بہن امتہ الحفیظ سلمہا نے حضرت والدہ صاحبہ کے ہاتھ حضرت اماں جان کے لئے ایک دہلی کی جوتی تحفہ بھیجی۔جب حضرت والدہ صاحبہ نے پیش کی تو اتفاق سے آپ کو اس جوتی کا ڈیزائن زیادہ پسند آیا جو والدہ صاحبہ نے پہنی ہوئی تھی۔فرمایا۔دوسری عورتیں دوپٹے بدل کر بہنیں بنتی ہیں آؤ ہم جو تیاں بدل کر بہنیں بن جائیں اور ان کی جوتی خود پہن لی اور اپنی جوتی انہیں پہنا دی۔اللہ اللہ ! کیا پیار و محبت تھی ان بزرگ ہستیوں میں۔حضرت اماں جان اکثر مزاح میں میری والدہ صاحبہ کو بلا یا کرتی تھیں۔ڈاکٹر کی بیوی ڈاکٹر کی ماں، ڈاکٹر کی بھاوج، ڈاکٹر کی سالے ہار! آپ کو پچیس برس سے شکر آنے کی تکلیف تھی مگر فارغ نہیں بیٹھتی تھیں۔کسی نہ کسی کام میں ہمیشہ لگی رہتیں۔نوکروں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔رمضان المبارک میں ان کے لئے گھی دودھ الگ کر کے رکھ