لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 262 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 262

262 حضرت حاجی محمد اسماعیل صاحب ریٹائر ڈسٹیشن ماسٹر ولادت: بیعت : ۱۹۰۱ء سے قبل حضرت حاجی محمد اسماعیل صاحب نے تعلیم سے فارغ ہو کر ریلوے میں ملازمت اختیار کی اور ایک لمبا عرصہ اسٹیشن ماسٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔تقسیم ملک کے بعد آپ لا ہور تشریف لے آئے اور دھرم پورہ میں مقیم ہیں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بذریعہ خط بیعت کی تھی لیکن رخصت نہ مل سکنے کی وجہ سے حضور کی زندگی میں حضور کی زیارت نہ کر سکے۔آپ کی اہلیہ محترمہ مریم بی بی صاحبہ بھی صحابیہ تھیں۔انہوں نے ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی اور۔فروری ۱۹۶۵ء کو ۵ ۷ سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کی گئیں۔اولا د فضل حق غازی، فضل الرحمن غازی مرحوم، سکینہ بیگم طاہرہ بیگم ناصرہ بیگم نصیرہ بیگم حضرت میاں عبدالرشید صاحب ولادت : ۱۸۸۴ء بیعت : ۹اء بمقام قادیان حضرت میاں عبدالرشید صاحب ابن حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لا ہور فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۳ء میں جب میں سکول آف آرٹس میں طالبعلم تھا اور آخری سال کی تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ محلہ وچھو والی کا ایک مسلمان لڑکا آریہ خیالات کے زیر اثر آ کر اسلام سے سخت متنفر ہو رہا تھا حتی کہ اس نے گوشت کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔رشتہ دارا سے بیگم شاہی مسجد کے امام عبد القادر کے پاس لے گئے۔اس مسجد پر ایک بورڈ بھی آویزاں تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ اس مسجد میں کوئی مرزائی یا وہابی نماز نہ پڑھے۔خیر جب اسے مولوی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تو مولوی صاحب اسے دلائل سے سمجھانے کی بجائے اسے گالیاں دینے لگ گئے اور غصہ میں آ کر اس لڑکے کو پیٹنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکا اسلام سے اور متنفر ہو گیا۔انہی ایام میں اس کا گذر موتی بازار سے ہوا۔وہاں ایک احمدی مستمی احمد دین صاحب ڈوری باف کی دکان تھی احمد دین صاحب کو جب اس کے حالات کا علم ہوا تو وہ اس کا گھر