لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 24
24 پہلی مرتبہ حضور کی لاہور میں تشریف آواری جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے پہلی مرتبہ حضور لاہور میں اس وقت تشریف لائے جب ۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب نے رؤسائے پنجاب کو معہ ان کے لڑکوں کے اپنی ملاقات کے لئے بلایا۔چنانچہ جب حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اپنے دونوں بیٹیوں یعنی مرزا غلام قادر صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ساتھ لے کر لاہور میں تشریف لائے تو انہوں نے لاہور کے رئیس محمد سلطان صاحب ٹھیکیدار کے اس رئیس خانہ میں قیام فرمایا جو لاہور اسٹیشن کے سامنے معزز مہمانوں کے ٹھہرنے کے لئے بنوایا ہوا تھا۔اور جو فروخت ہونے کے بعد اب BARGANZA HOLTE“ کے نام سے مشہور ہے۔اسی میں پنجاب کے سارے رؤساء جمع ہوئے تھے۔محترم ماسٹرمیاں نذیرحسین صاحب کی روایت ہے کہ میاں محمد سلطان صاحب چونکہ لا ولد تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے خاندان کے ایک یتیم بچہ کو ( جس کا نام فیروز الدین تھا اور جو بعد میں میرے نانا بنے ) اپنا متبنی بنایا ہوا تھا۔اسے اور حضرت میاں چراغ دین صاحب کو ( جو وہ بھی خاندان میں اکیلے ہی لڑکے تھے ) لیفٹینٹ گورنر سے ملاقات کے لئے ٹھہرایا ہوا تھا۔اس موقعہ پر ظہر کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے والد ماجد سے مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت مانگی۔والد صاحب سے اجازت ملنے پر جب آپ جانے لگے تو میاں فیروز الدین صاحب اور میاں چراغ دین صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔کیونکہ یہ دونوں بھی نماز کے پابند تھے۔میاں محمد سلطان صاحب کے محل کے قریب ہی ایک مسجد ہے جس میں تینوں نے جا کر نماز پڑھی۔ایک مرتبہ آپ ایک زمینداری مقدمہ کی پیروی کیلئے لاہور تشریف لائے اور قادیان ہی کے ایک معزز زمیندار سید محمد علی شاہ صاحب کے ہاں قیام فرمایا جو ان دنوں محکمہ جنگلات میں ملازمت کے سلسلہ میں لاہور میں مقیم تھے۔اور شاہ صاحب کا ملازم آپ کے لئے چیف کورٹ میں روزانہ کھانا لے جایا کرتا تھا۔ایک دن وہ کھانا لے کر واپس آ گیا تو شاہ صاحب نے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے کھانا میاں محمد سلطان صاحب کا محل سرائے سلطان کے قریب ہی تھا۔