لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 221
221 ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب فوت ہو گئے ہیں اور اس کی وجہ یہ پیش آئی کہ وہ کسی مریض کا آپریشن کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھ پر نشتر لگ گیا اور اس نشتر کے زہر سے ان کی موت واقع ہوگئی۔۔ایک روز ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب معہ اہل و عیال قادیان سے واپس آنے کیلئے یکہ لے کر آئے اور اجازت طلب کی۔یہاں تک کہ جب یکے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے تو حضور باہر تشریف لائے اور پوچھا ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں ؟ دوستوں نے عرض کیا کہ حضور وہ تو چلے گئے۔فرمایا۔کوئی آدمی دوڑ کر ان کو واپس لائے۔اکثر احباب دوڑ پڑے اور ان کے یکے کو راستہ سے واپس لائے۔ابھی وہ واپس پہنچے ہی تھے۔کہ اس قدر زور سے آندھی اور بارش کا طوفان آیا کہ الامان والحفیظ ! ہم نے اس وقت سمجھا کہ حضور کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دے دی تھی کہ سخت آندھی اور بارش آنے والی ہے اس لئے حضور نے ڈاکٹر صاحب کو واپس بلا لیا۔۹۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور خاکسارا کٹھے قادیان جاتے اور اکٹھے ہی واپس آتے تھے۔اتوار کے روز عموماً ٹرینوں کے متصل ہونے کی وجہ سے پانچ منٹ ہی ملاقات کے لئے ملتے۔حضور کو اس بات کا علم تھا۔اس لئے جب ہم اندر اطلاع بھجواتے تو اکثر حضور بہت جلد باہر تشریف لاتے۔ایک دفعہ فرمایا کہ یہ آپس میں جز ولا ینفک ہیں۔قریشی صاحب آئیں تو سمجھا جاتا ہے کہ غلام محمد ساتھ ہو گا۔غلام محمد صاحب آئیں تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ قریشی صاحب ساتھ ہوں گے۔بات یہ تھی کہ اتوار کی رخصت ہوتی تھی اور اسی وقت واپس آنا ضروری ہوتا تھا اور حکیم صاحب کا کارخانہ تھا۔۱۰۔حضرت با بو غلام محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جب بیعت کی تو میری ڈاڑھی منڈی ہوئی تھی۔ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں۔کانوں میں بالیاں تھیں۔بٹن سونے کے تھے۔میری یہ حالت دیکھ کر مولوی عبد الکریم صاحب نے حضور سے عرض کی کہ حضور اس کو کہیں کہ ڈاڑھی رکھے۔مسکرا کر فرمایا 'دین کا ڈاڑھی پر انحصار نہیں ہے۔جب یہ لوگ ہماری ڈاڑھی دیکھیں گے۔آپ کی ڈاڑھی دیکھیں گے اور دوستوں کی ڈاڑھیاں دیکھیں گے تو یہ بھی رکھ لیں گے۔اگر ڈاڑھی ہی دین کے لئے لازمی ہوتی۔تو ہمارے زمانے میں ایک شخص کی اتنی لمبی ڈاڑھی تھی اور وہ جب اسے کھڑا ہو کر کھولتا تو ایک دوبل اس کے پاؤں پر بھی پڑتے“۔