لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 191
191 اور رات کو اول دال مونگی کے ساتھ روٹی دیتے تھے۔میری زبان کا ذائقہ بالکل خراب ہو گیا تھا۔ایک روز میں نے محترمہ اماں جی والدہ مولوی عبد السلام سے التجا کی اماں جی ! میرے مونہہ کا ذائقہ خراب رہتا ہے۔اگر کچھ شور با یا کوئی نمکین چیز ہو۔تو یقینا ذائقہ درست ہو جائے گا ( انشاء اللہ )۔فرمایا۔مولوی صاحب ناراض ہو جائیں گے۔مگر انہوں نے میرے اصرار پر ایک کپڑے سے مرچوں کو چھان کر مجھے پلا دیا۔حسب دستور علی الصبح مولوی صاحب نے میری نبض دیکھی جو بڑی تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔حیران ہو کر فرمایا۔رات کیا کھایا تھا ؟ میں نے کہا۔کچھ نہیں۔آپ درس بخاری کو چھوڑ کر دوڑے ہوئے گھر گئے۔دریافت فرمایا کہ رات کو عطاء اللہ نے کیا کھایا۔انہوں نے کہا۔کھانے کے بعد اس نے ضد کر کے تھوڑا سا شور با پیا۔اس پر حضور ان پر بھی ناراض ہوئے کہ شور با کیوں دیا اور مجھ پر بھی کہ جھوٹ کیوں بولا۔حضرت مولوی صاحب نے میری دروغگو ئی اور بد پرہیزی کا حضرت صاحب سے بھی ذکر کر دیا۔نیز مجھے کہا کہ حضرت صاحب کے پاس جوارش ہے اگر آپ کو کچھ دستیاب ہو جائے تو یہ کمزوری دور ہو جائے گی۔میں نے جرآت کر کے حضرت سے مانگ لی۔فرمایا کہ آپ بہت بد پر ہیز ہیں اس لئے آپ کو یہ دوائی نہیں مل سکتی۔میں شرمندہ ہو کر مسجد سے چلا گیا۔حضرت مولوی صاحب کو میری صحت کا بہت فکر رہتا تھا۔بہت ادویات وغیرہ بنا کر مجھے دیں۔فرمایا کہ دعائیں کریں اور دوا بھی استعمال کریں۔میں بھی انشاء اللہ آپ کے لئے دعا کروں گا۔پھر میں حضرت مسیح موعود کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا کہ میں اب واپس جاتا ہوں۔رخصت ختم ہو گئی ہے صحت خراب ہو گئی ہے دعا فرماویں۔فرمایا۔آپ نمازوں میں عاجزی انکساری اور اضطراب سے دعائیں کیا کریں اور خط ضرور لکھتے رہا کریں۔بد پرہیزی کو چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور پختہ وعدہ کریں۔اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔انشاء اللہ صحت دے گا۔جب میں راولپنڈی گیا تو رات کے ڈیڑھ بجے کے قریب مجھے ایک رؤیا کسی غیر زبان میں ہوئی جس کو میں نہ سمجھ سکتا تھا۔حیران ہو کر پھر اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی کہ اے اللہ ! تو سب زبانوں پر قدرت رکھتا ہے۔مجھے سمجھ عطا فرما کہ یہ کیا خواب تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے رات کے اڑھائی بجے کے قریب بلند آواز سے میری زبان پر جاری کرا دیا کہ , Healthy, Healthy