لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 181
181 یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد الہاموں کے مورد تھے۔ایک لمبے عرصہ تک بطور ناظر صدرانجمن احمد یہ خدمات سرانجام دیں۔حق وصداقت کی خاطر کچھ عرصہ کے لئے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خد و خال اور رنگ ڈھنگ میں بہت مشابہت رکھتے تھے۔بہت متقی، فیاض، غریب پرور سادہ طبیعت دل کے درویش مگر طبیعت کے بادشاہ اور نہایت صائب الرائے تھے۔صاحب کشف والہام بھی تھے۔ایک لمبے عرصہ تک اعصابی تکلیف میں مبتلا رہے۔کئی مواقع پر بظاہر زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی رحمت انہیں بچاتی رہی۔اور یہ الہام بار بار پورا ہوا۔عمرہ الله على خلاف التوقع۔آخر ۱۷۔رجب ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۶۔دسمبر ۱۹۶۱ء کو جبکہ جلسہ سالانہ کا افتتاح ہونے والا تھا، خدائی مشیت کے ماتحت ۶۶ سال سات ماہ کی عمر میں انتقال فرمایا۔اور ہزار ہا خلصین نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔انالله و انا اليه راجعون۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ آپ کو علاج کے لئے ایک لمبے عرصہ تک لاہور میں رہنا پڑا۔پہلے کافی عرصہ آپ رتن باغ میں رہے۔مگر جب کوٹھی رتن باغ کا الحاق میوہسپتال کے ساتھ ہو گیا تو آپ نے کوٹھی پام و یونز دشملہ پہاڑی میں رہائش اختیار کر لی۔پہلے آپ کو انتڑیوں میں درد کی تکلیف تھی مگر بعد ازاں پیٹ میں بھی تکلیف ہوگئی۔اس کے علاوہ گھٹنوں اور رانوں میں سختی کی شکایت بھی پیدا ہو گئی جو دائیں ٹانگ میں نسبتا زیادہ محسوس ہوتی تھی۔فرش پر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے کرسی یا چار پائی پر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ہاتھ کی انگلیوں میں بھی تکلیف رہتی تھی۔مگر ان تمام عوارض کے باوجود یہ عجیب بات ہے کہ جب تک چلنے کی طاقت رہی آپ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹہ ٹہلتے رہتے تھے۔راقم الحروف جب بھی ملاقات کے لئے حاضر ہوتا آپ اس عاجز کا ہاتھ پکڑ لیتے اور ٹہلنا شروع فرما دیتے۔عاجز تھک جاتا۔مگر آپ نہیں تھکتے تھے۔ایک واقعہ یاد آ گیا۔ابھی آپ رتن باغ ہی میں تھے کہ خاکسار حاضر ہوا۔پہلے کچھ دیر ٹہلتے رہے۔پھر فرمایا میرا Pen (پین ) گم ہو گیا ہے۔خیال ہے کہ گوالمنڈی چوک کے ایک دوکاندار کے پاس بھول آیا ہوں۔چلو چل کر پتہ کریں۔خیر چل پڑے۔رستہ میں فرمایا۔انسان کی بھی عجیب حالت