لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 158 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 158

158 کر اور ہاتھ میں ہتھوڑا لے کر روڑی کوٹا کرتے تھے۔اور اینٹیں گڈے پر آتیں تو اپنے ہاتھ سے اتار کر اندر رکھتے تھے۔اور آپ جیسے امیر طبع آدمی کو دیکھ کر سارے موجود احمدی ان کاموں میں برابر آپ کا ساتھ دیا کرتے تھے۔مسجد کی تعمیر کے لئے جب آپ چندہ کی تحریک کرتے تو ایسے درد کے ساتھ کرتے تھے کہ لوگ اپنی جیبیں خالی کر کے ہی گھر جاتے تھے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مسجد کی تعمیر ان ایام میں ہوئی جبکہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ویمبلے کا نفرنس میں شمولیت کے لئے اور مسجد لندن کا سنگ بنیا درکھنے کے لئے لندن تشریف لے گئے تھے۔اس سفر میں جب حضور کو روپیہ کی ضرورت پیش آئی تو بعض احباب نے اس بات پر زور دیا کہ جو روپیہ مسجد کے لئے جمع ہو چکا ہے وہ حضور کی خدمت میں بھیج دیا جائے مگر آپ نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔یہ روپیہ مسجد پر ہی خرچ ہو گا۔حضرت صاحب کے لئے اللہ تعالیٰ اور جگہ سے انتظام کر دے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان ایام میں آپ ہر دم اس فکر میں رہتے تھے کہ مسجد جلد مکمل ہوا اور جماعت پراگندہ اور منتشر ہونے سے بچ جائے۔آپ نہایت ہی خود دار راستباز صبر وقناعت اور استغناء کے پتلے تھے۔اپنی زبان سے ہمیشہ وہی بات نکالا کرتے تھے جس کے متعلق آپ کو یقین ہوتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا کلام نہایت ہی پر اثر ہوتا تھا۔حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر نے آپ کی وفات پر جو مر ثیہ لکھا اس میں آپ کی اس صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تیرے خطبوں میں ہوا کرتا تھا اک سوز و گداز تیری تقریروں میں تحریروں میں تھا صدق و صفا گفتگو میں تجھ سے گھبراتے تھے باغی و عدد یاد ہے گوہر کو وفد صلح کا سب ماجرا حضرت قریشی صاحب سلسلہ کے ان چند خوش نصیب اصحاب میں سے تھے جن کو اہم مواقع پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے خط لکھا کرتے تھے۔لاہور سے متعلق جو بھی کام ہوتا حضور علیہ السلام بے تکلفی سے حضرت قریشی صاحب کو لکھ دیا کرتے تھے۔اس طرح آپ کو حضرت اقدس کی خوشنودی حاصل کرنے اور دعاؤں سے فیض یاب ہونے کا خاص موقعہ ملتا رہتا تھا۔حضرت مسیح