لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 159
159 موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضور کے خلفاء کا بھی یہی طریق رہا۔چنانچہ ان خطوط سے جو حضرت اقدس نے یا حضور کے خلفاء نے حضرت قریشی صاحب کو لکھے۔آپ کی سیرت کے بعض اہم پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔نیز یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خلفاء کے دلوں میں سلسلہ کے اس خادم کے لئے کس قدر محبت و شفقت بھری ہوئی تھی۔ذیل میں آپ کے نام کے بعض خطوط۔۔۔کی صرف نقول دی جارہی ہیں جن سے احباب اندازہ لگا سکیں گے کہ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت قریشی صاحب کو کس قدر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ یہ خطوط ہمیں حضرت قریشی صاحب کے صاحبزادے قریشی محمد اسماعیل صاحب نے عطا فرمائے ہیں۔فجزاه الله في الدنيا والآخرة ا۔ذیل کا خط حضرت اقدس نے قریشی صاحب کے لڑکے محمد بشیر کی وفات پر آپ کو لکھا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔آپ کے لخت جگر محمد بشیر کا واقعہ وفات در حقیقت سخت صدمہ تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور اس مرحوم بچے کی ماں کو صبر عطا فرمادے اور نعم البدل عطا فرما دے۔آمین ثم آمین اے عزیز! دنیا ہر ایک مومن کے لئے دار الامتحان ہے۔اللہ تعالیٰ آزماتا ہے کہ اس کی قضاء و قدر پر صبر کرتے ہیں یا نہیں۔بچہ والدین کے لئے فرط ہوتا ہے یعنی ان کی نجات کے لئے پیش خیمہ ہوتا ہے۔چاہئے کہ ہمیشہ درود شریف (جو در ودیا دہو ) اور نیز استغفار (جو استغفار یا د ہو ) آپ دونوں پڑھا کریں۔میں نے بہت دعا کی ہے خدا تعالیٰ سلامتی ایمان اور اس بچہ کا بدل بخشے اور امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو منظور فرما دے۔باقی سب خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۴۔جنوری ۱۸۹۸ء ۲ ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زلزلہ کانگڑہ کے بعد چند ماہ کے لئے اپنی جماعت کے ہمراہ قادیان سے باہر اپنے باغ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔آپ کی تتبع میں حضرت قریشی صاحب بھی شہر لا ہور سے باہر باغبانپورہ کی طرف چند مخلصین سمیت ایک جگہ کرایہ پر لے کر آباد ہو گئے تھے۔