لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 142
142 یہ فرم گوجرانوالہ میں منتقل ہوگئی تو بھی اس کا نام یہی رہا اور اب تک اسی نام سے اندرون و بیرون ملک سے خطوط وغیرہ آتے ہیں۔آپ کے ملتان میں قیام کے دوران ایک مرتبہ حضرت خلیفہ المسیح الاول ایک شہادت کے سلسلہ میں ملتان تشریف لے گئے اور آپ کو وہاں بحیثیت سیکرٹری جماعت خدمت کا موقعہ ملا۔دوسرے ایک تبلیغی جلسہ بھی جماعت نے کیا جس میں قادیان سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت میر قاسم علی صاحب تشریف لے گئے اور جلسہ بہت کامیابی کے ساتھ ہوا۔اس جلسہ سے قبل لاہور سے مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کی طرف سے دو گمنام ٹریکٹ اظہار لحق نمبرا اور اظہارالحق نمبر ، متان پہنچ چکے تھے۔اس جلسہ میں ان ٹریکٹوں کے جوابات ” خلافت احمدیہ اور اظہار حقیقت احباب میں تقسیم کئے گئے۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح لاوّل کی وفات کی خبر ملتان پہنچی تو اس کے ساتھ ہی ڈاک میں ایک ضروری اعلان کے نام سے مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ بھی ملتان پہنچا۔جماعت نے اسی وقت اپنے دو نمائندے حقیقت حال معلوم کرنے کیلئے قادیان بھیجے۔جب وہ واپس ملتان پہنچے تو سوائے تین چار دوستوں کے جن میں حضرت شیخ صاحب بھی شامل تھے۔باقی تمام نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بیعت کے خط لکھ دیئے۔شیخ صاحب اس وقت بیعت سے اس واسطے رک گئے کہ آپ کے ابتداء ہی سے جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔چنانچہ ۱۹۱۵ء میں جب آپ نے ملتان سے گوجرانوالہ میں اپنا کارخانہ منتقل کر لیا تو لاہور کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ان لوگوں سے اور زیادہ تعلقات بڑھ گئے۔گوجرانوالہ میں بھی غیر مبائعین کے آٹھ دس افراد تھے اور شیخ صاحب بھی آ گئے۔اس لئے یہاں ان کی ایک مضبوط جماعت قائم ہوگئی۔اس موقعہ پر آپ کا ایک تبلیغی لطیفہ یاد آ گیا جو نہایت دلچسپ ہے۔اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ آپ کے خاندانی پیر نذرانہ وصول کرنے کیلئے ہر سال گوجرانوالہ آیا کرتے تھے۔اس مرتبہ جب آئے تو چونکہ آپ بھی گوجرانوالہ میں موجود تھے۔آپ کے پاس بھی آئے۔آپ نے فرمایا کہ پیر صاحب! آپ لوگوں کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہماری نسلیں مل کر بھی اس احسان کو اتارنا چاہیں تو نہیں