لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 135 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 135

135 ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ( غیر مبائع) ولادت : ۲ ۱۸۷ء بیعت : ۱۸۹۲ء وفات : ۱۲۔فروری ۱۹۳۶ء ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور مرزا ایوب بیگ صاحب دونوں بھائیوں نے ۱۸۹۲ء میں لا ہور میں ہی حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔دونوں نہایت ہی مخلص تھے اور سلسلہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔افسوس کہ حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب تو ۱۹۰۰ ء میں وفات پاگئے۔لیکن جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے لمبی عمر پائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے زمانہ میں اخلاص سے کام کیا۔آپ کی بیعت کا واقعہ نہایت ہی ایمان افزا ہے۔آپ کی عمرا بھی اٹھارہ انیس سال کی ہی تھی اور آپ میڈیکل کالج کی سیکنڈ ایئر کلاس کے طالب علم تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۲ء میں لاہور تشریف لائے اور محبوب رایوں کے مکان واقعہ ہیرا منڈی میں قیام فرمایا۔آپ زیارت کیلئے پہنچے۔پہلے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سے ملاقات کر کے لطف اندوز ہوئے اور پھر حضرت اقدس کی زیارت کر کے بے اختیار کہہ اٹھے کہ یہ شخص صادق ہے جھوٹا نہیں“ چنانچہ بیعت کر کے واپس لوٹے۔اگلے روز آپ کے چھوٹے بھائی حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی پہلی ملاقات میں ہی بیعت کر لی۔بیعت کے بعد دونوں بھائیوں میں ایک خاص تبدیلی پیدا ہوئی جس کو آپ کے والد دیکھ کر حیران رہ گئے۔حضرت مولانا رحیم اللہ صاحب سے قرآن شریف ختم کیا۔بیعت کے ایک سال بعد محترم مرزا یعقوب بیگ صاحب قادیان پہنچے اور وہاں سے ہی یکے بعد دیگرے دو تبلیغی خطوط اپنے والد محترم کو لکھے۔حضرت اقدس کی آپ کی طرف خاص توجہ تھی۔اس لئے حضور کی دعاؤں سے بیعت کے بعد ہر سال وظیفہ ملتا رہا اور کالج سے فارغ ہوتے ہی ہاؤس سر جن کا عہدہ مل گیا۔امرتسر میں جب حضرت اقدس کا عبد اللہ آتھم سے مباحثہ ہورہا تھا۔اس میں یہ دونوں بھائی شامل ہوتے رہے۔اس مباحثہ کے دوران میں ان کے والد مرحوم مرزا نیاز بیگ صاحب رئیس کلانور نے بھی بیعت کر لی۔جس سے دونوں بھائیوں کو بہت ہی خوشی ہوئی۔اب تو فدائیت کا یہ حال تھا کہ اگر کالج میں