لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 130
130 غرض ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں ہم پہنچے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور کالی پرسن میرے وکیل تھے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں یہ بیان کیا کہ اشتہار جو دیواروں پر لگ چکے ہیں وہ اتنی کثرت سے چسپاں ہیں کہ باوجود ساری جماعت احمدیہ کی کوشش کے ہم ان کو ایک دن کے اندر نہیں اتار سکتے۔ڈپٹی کمشنر اپنے عملے کوحکم دے کہ وہ اشتہار دیواروں پر سے اتار لے۔اس کے جواب میں ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ میں اپنا حکم نہیں بدل سکتا۔پھر ہم اوپر کی کچہری میں سیشن جج کے پاس پہنچے۔اور اس مقدمہ کی اپیل وہاں دائر کر دی۔سیشن حج نے) تصویر والا اشتہار دیکھ کر اس قدر غضب کا اظہار کیا کہ بیان نہیں ہو سکتا اور اس نے ہمارے مقدمہ کے متعلق کوئی اپیل نہ سنی اور اس کو خارج کر دیا۔اور پھر ہم چیف کورٹ میں پہنچے۔چیف کورٹ میں جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو عیسائیوں کی طرف سے لاٹ پادری اور دوسرے عیسائی مناد بھی موجود تھے۔۔حضرت مسیح موعود نے جوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک عرض داشت اپنی قلم مبارک سے لکھ کر دی تھی۔گویا عیسائیت پر حجت تمام کر دی۔اس میں حضور نے ایک ایسی بے نظیر بات لکھی تھی کہ جس کا کوئی جواب لاٹ پادری بھی نہیں دے سکتا تھا۔حضور نے اس میں یہ لکھا تھا کہ انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نے صلیب کے بعد اپنے صلیبی زخم حواریوں کو دکھائے تھے اور حواریوں میں سے ایک طبیب بھی تھا۔چنانچہ لوقا کے متعلق انجیلوں میں لکھا ہے۔پیارا طبیب۔طب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ مرہم مسیح کے لئے بنائی گئی تھی اور حضرت مسیح کی زندگی میں سوائے صلیب کے واقعہ کے کوئی واقعہ نہیں ہوا جس کے لئے حضرت مسیح کے لئے مرہم بنائی جاتی۔" پس انجیلیں بتاتی ہیں کہ حضرت مسیح کے ہاتھوں میں صلیبی زخم تھے اور طب کی کتا ہیں بتاتی ہیں۔کہ وہ زخم اس مرہم سے اچھے ہوئے تھے۔چیف کورٹ میں اس مقدمے کو سننے کے لئے بڑی مخلوق جمع تھی اور حضرت والد بزرگوار میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی اور میرے چچا اور دوسرے تمام رشتہ دار اس مقدمہ کو سننے کے لئے چیف کورٹ میں گئے ہوئے تھے۔اس وقت حج ایک