لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 118
118 ۹۔خاکسار مؤلف کے اس سوال پر کہ کیا کبھی آپ نے حضرت صاحب کو کسی سے بغلگیر ہوتے دیکھا ہے؟ فرمایا کہ ہاں ! حضرت صاحبزادہ عبدالطیف صاحب کو حضور گلے لگا کر ملے تھے۔جب صاحبزادہ صاحب لا ہور میں پہنچے تو ہمارے مکان میں قریباً آٹھ دن ٹھہرے تھے اور جمعہ کی نماز گھٹی والی مسجد میں پڑھائی تھی اس خطبہ میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا۔محمد است عین محمد۔یہ الفاظ ابھی تک ہمارے کانوں میں گونج رہے ہیں اور مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد میں جو ہمارے لنگے منڈی والے مکانوں کے بالکل سامنے تھی، آپ نے ایک نظم بھی لکھی تھی۔جس کا پہلا شعر کچھ اس قسم کا تھا۔عجب کہ احمد اطہر بایں گذر آمده محمد است بگیسوئے معطر آمده یہ نظم شائع ہو چکی ہے۔صاحبزادہ صاحب نے یہاں لاہور سے آٹھ نو ٹرنک حدیث اور دیگر علوم کی کتابوں کے خریدے تھے۔ڈاکٹر غلام محمد صاحب غیر مبائع جو خواجہ کمال الدین صاحب کے بہنوئی ہیں۔ان کے بڑے بھائی کی شادی تھی۔دعوت ولیمہ پر ان کے والد منشی نبی بخش صاحب نے ہمیں بھی اور حضرت صاحبزادہ۔صاحب کو بھی بلایا تھا۔جب صاحبزادہ صاحب کے آگے کھانا رکھا گیا۔جو زردہ پلاؤ وغیرہ تھا تو صاحبزادہ صاحب نے فرمایا۔ایں گوہ است‘ اور اٹھ کر چل دیئے۔مجھے خوب یاد ہے۔آپ کا جبہ تیز چلنے کی وجہ سے ہوا میں اڑ رہا تھا۔آپ نے مجھے چار آنے کے پیسے دیئے اور فرمایا کہ نان اور کباب خرید و۔چنانچہ میں نے خرید لئے اور وہ ہم نے لنگے منڈی والی مسجد میں جا کر کھائے بعد ازاں پتہ لگا کہ جس دعوت پر ہم مدعو تھے وہ شادی سے پہلے تھی اور روپیہ بھی سود پر لیا گیا تھا۔اس زمانہ میں دعوت ولیمہ کی بجائے شادی سے قبل کھانا کھلا دیا جا تا تھا۔۱۰۔ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور نے عرض کیا حضور میری دکان کیلئے دعا کریں۔فرمایا میں تو دن رات یہی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی طرح کسر صلیب کرے اور آپ کو دکان کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ا۔ایک دفعہ حضور کچھ لکھ رہے تھے کہ حضور کے پاس دودھ رکھا گیا مگر آپ لکھنے میں مشغول رہے۔اتنے میں ایک بلی آئی اور دودھ پی گئی۔دوسرے دن اسی وقت پھر آپ کچھ لکھ رہے تھے کہ بلی نے آ کر