لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 119 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 119

119 آپ کے پاؤں پر پنجہ مارنا شروع کیا۔گویا وہ دودھ مانگتی تھی۔حضور نے آواز دی کہ اس کے لئے دودھ لا ؤ اور فرمایا کہ دیکھو اس نے اپنی طرف سے پیار کیا ہے اور میرے پاؤں کو چھیل دیا ہے۔۱۲ - ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے جب حضرت صاحب لیکچر دینے کیلئے لا ہور تشریف لائے تو ہم چند نو جوانوں نے مشورہ کیا کہ دوسری قوموں کے لیڈر جب یہاں آتے ہیں تو ان قوموں کے نو جوان گھوڑوں کی بجائے خود ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔اور ہمیں جو لیڈ ر اللہ تعالیٰ نے دیا ہے یہ اتنا جلیل القدر ہے کہ بڑے بڑے با دشاہ بھی اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔پس آج گھوڑوں کی بجائے ہمیں ان کی گاڑی کھینچنی چاہئے۔چنانچہ ہم نے گاڑی والے سے کہا کہ اپنے گھوڑے الگ کر لو۔آج گاڑی ہم کھینچیں گے۔کوچ مین نے ایسا ہی کیا۔جب حضور باہر تشریف لائے تو فرمایا گھوڑے کہاں ہیں۔ہم نے عرض کیا۔حضور دوسری قوموں کے لیڈ ر آتے ہیں تو ان کی قوم کے نوجوان ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔آج حضور کی گاڑی کھینچنے کا شرف ہم حاصل کریں گے۔فرمایا گھوڑے جو تو۔ہم انسان کو حیوان بنانے کیلئے دنیا میں نہیں آئے ہم تو حیوان کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں۔۱۳۔ایک مرتبہ جب کہ حضور لا ہور تشریف لائے ہوئے تھے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کا شوق ظاہر کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا : ☆ میاں تم جہانگر کا مقبرہ دیکھنے کیلئے بے شک جاؤ لیکن اس کی قبر پر نہ کھڑے ہونا کیونکہ اس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجددالف ثانی کی ہتک کی تھی۔۱۴۔حیات طیبہ ایڈیشن دوم صفحہ ۳۴۲ میں حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل کی روایت سے یہ لکھا جا چکا ہے کہ کرم دین والے مقدمات میں مجسٹریٹ آتما رام نے پہلے حضرت صاحب کے خلاف فیصلہ سنانے کے لئے یکم اکتو بر ۱۹۰۴ ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔مگر اس روز غیر احمدیوں کا ایک جم غفیر احاطہ کچہری میں موجود تھا اور احمدی احباب بھی اڑھائی تین سو کے قریب کراچی حیدر آباد سندھ پشاور وزیر آباد کپورتھلہ قادیان' لاہور یہ روایت حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگر ہ آف گوجرانوالہ نے بھی شائع کروائی تھی مگر الفاظ روایت میں قدرے فرق ہے مفہوم میں فرق نہیں۔دیکھئے "بدر ۲۱۔اگست ۱۹۱۳ء صفحہ۳